وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

گورنر راج یا ایمرجنسی سے حالات مزید خراب ہوں گے، بیرسٹر گوہر

W
Web Desk
1 اکتوبر، 2026
گورنر راج یا ایمرجنسی سے حالات مزید خراب ہوں گے، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ حالات کو مزید خراب کرے گا، جبکہ وفاق مضبوط بنانے کے لیے خودمختار صوبے ضروری ہیں

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، صوبے میں کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی اقدام نہیں ہونا چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایک منتخب مینڈیٹ کو ختم کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے اور ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جانا چاہیے جو عوام کی مرضی کے خلاف ہو۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر دن اہم ہے اور پاکستان تحریک انصاف پرامن احتجاج کرے گی۔ ان کے مطابق اسمبلی توڑنے کا کوئی آپشن زیرِغور نہیں، وفاق مضبوط ہونا چاہیے اور مضبوط وفاق کے لیے خودمختار صوبوں کا ہونا ضروری ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق خبریں گزشتہ چند روز سے گردش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کسی بھی اقدام کو آئین اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

4 اکتوبر کے اسلام آباد مارچ کا اعلان

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات کے دوران تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کا احتجاج پرامن ہوگا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات سے متعلق سوال

اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فی الحال اسپیکر قومی اسمبلی کے ساتھ ملاقات نہیں ہو رہی، تاہم پارٹی کی اپنی ملاقات ہوگی۔

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور امن و امان کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کے مطابق بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام میں ناکام رہی ہے، جبکہ وزیراعظم نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر کشمیر امور امیر مقام، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ شریک ہوئے۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کے قانونی پہلوؤں پر بریفنگ

ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور سکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئینی اور قانونی پہلوؤں پر اجلاس کو آگاہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے ہونے والے پسِ پردہ رابطوں سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا سے متعلق کسی حتمی فیصلے سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ اجلاس میں بھی آئینی و قانونی آپشنز پر غور

گزشتہ روز بھی وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے مختلف آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کیا گیا تھا۔

تاہم وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والا اعلیٰ سطح کا اجلاس قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل معمول کی مشاورت کا حصہ تھا اور اس کا گورنر راج یا ہنگامی حالت کے نفاذ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 1 اکتوبر، 2026 کو 10:02 AM

آخری تدوین: 1 اکتوبر، 2026

متعلقہ مضامین