سعودی عرب کا آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر زور

سعودی عرب نے آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے اہم آبی گزرگاہوں کے استعمال کو دباؤ یا دھمکی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی ہے
اسی موضوع سے پڑھیں
ریاض: سعودی عرب نے آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق مملکت نے آبنائے ہرمز میں 28 فروری سے قبل کی صورتحال بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بین الاقوامی بحری آمدورفت پر کسی قسم کی فیس یا پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔
سعودی مؤقف کے مطابق اہم آبی گزرگاہوں کو کسی ریاست پر دباؤ ڈالنے، دھمکیاں دینے یا اس کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ریاض نے اس معاملے میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی پاسداری پر بھی زور دیا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت اور عالمی تجارتی و توانائی سپلائی کے تسلسل پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خلیج تعاون کونسل اور دیگر علاقائی ممالک بھی آبنائے ہرمز اور باب المندب میں آزادانہ بحری آمدورفت کی اہمیت پر زور دے چکے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں بحری سکیورٹی کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔ سعودی قیادت میں کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کی کوششوں کا مقصد ان اہم سمندری راستوں میں بحری سلامتی، تجارتی راستوں اور عالمی سپلائی چینز کا تحفظ قرار دیا گیا ہے۔
سعودی عرب نے فلسطین کے معاملے پر بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل ضروری ہے، جس کے تحت 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔
سعودی کابینہ نے مسجد اقصیٰ کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کی خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی اور فلسطینی مسئلے کے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
شائع ہوا: 30 ستمبر، 2026 کو 05:42 AM
آخری تدوین: 30 ستمبر، 2026



