8 ارکان قومی اسمبلی غائب ہیں، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کہاں ہیں؟ محمود اچکزئی

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے 8 ارکان قومی اسمبلی کے غائب ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بارے میں وضاحت طلب کرلی اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کردیا
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 ارکان قومی اسمبلی غائب ہیں، بتایا جائے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کہاں ہیں؟
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن کو ایوان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حکومت سے کچھ نہیں چاہیے، صرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔
8 ارکان قومی اسمبلی کے غائب ہونے کا معاملہ
محمود اچکزئی نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ 8 ارکان قومی اسمبلی غائب ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بارے میں بھی سوال اٹھاتے ہوئے ان کی موجودگی سے متعلق وضاحت طلب کی۔
اپوزیشن لیڈر نے ایوان میں اظہار خیال کے مواقع محدود ہونے پر بھی اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ جمہوری عمل کو مؤثر بنانے کے لیے شفاف انتخابات یقینی بنائے جائیں۔
وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات پر حکومتی مؤقف
دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کے ذریعے آئینی ذمہ داریاں پوری ہونی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کسی فرد کی ذاتی رہائش گاہ نہیں بلکہ وزیراعظم کی سرکاری اور ریاستی رہائش گاہ ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کی حیثیت کو کسی فرد کے طور پر نہیں بلکہ اپوزیشن لیڈر کے آئینی عہدے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
سیاسی کشیدگی اور انتخابی مطالبات
قومی اسمبلی میں سامنے آنے والے ان بیانات سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔ ایک جانب اپوزیشن کی طرف سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات اور ارکان اسمبلی سے متعلق وضاحت کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ حکومتی مؤقف میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان آئینی ذمہ داریوں کی تکمیل پر زور دیا گیا۔
شائع ہوا: 20 اکتوبر، 2026 کو 05:18 AM
آخری تدوین: 20 اکتوبر، 2026



