بھارت: اجین کی شاہی مسجد کے معاملے پر احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، متعدد افراد زیرِ حراست

بھارتی شہر اجین میں شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کشادگی منصوبے کے تحت ہٹانے پر احتجاج شدت اختیار کرگیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد آنسو گیس استعمال کی گئی اور بعض افراد کو حراست میں لیا گیا
اسی موضوع سے پڑھیں
اجین: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کشادگی منصوبے کے تحت ہٹانے کے معاملے پر احتجاج اور کشیدگی شدت اختیار کرگئی ہے۔ اتوار کی رات بڑی تعداد میں مقامی افراد مسجد کے قریب اور اندر جمع رہے جبکہ پیر کی صبح انتظامیہ کی کارروائی کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
مقامی مسلم برادری کا مؤقف ہے کہ مسجد کے مذہبی اور تاریخی ڈھانچے کو سڑک کشادگی منصوبے سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ احتجاج کرنے والے بعض افراد نے رات مسجد میں گزاری اور انتظامیہ سے کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا۔
پیر کی صبح کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب میونسپل انتظامیہ نے سڑک کی مجوزہ حدود میں آنے والے مسجد کے حصے کو ہٹانے کا عمل شروع کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس دوران پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے بعد اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

سڑک کشادگی منصوبہ کیا ہے؟
تنازع اجین میں سِمْہستھ کمبھ 2028 سے قبل جاری انفراسٹرکچر اور سڑک کشادگی کے منصوبے سے متعلق ہے۔ انتظامیہ کے مطابق متعلقہ سڑک کو 15 میٹر تک چوڑا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ شہر میں بڑے مذہبی اجتماع کے دوران ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جاسکے۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 9 ستمبر 2026 کے فیصلے کے مطابق مسجد وقف جائیداد کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور درخواست گزاروں نے مسجد کے ایک حصے، نماز ہال، مینار اور سامنے کے مذہبی حصے کو ہٹانے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے متعلقہ درخواستیں مسترد کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کی کارروائی میں مداخلت سے انکار کیا۔

عدالت کے فیصلے میں میونسپل حکام کا مؤقف بھی درج ہے کہ سڑک کشادگی کے عمل میں دیگر تعمیرات بھی متاثر ہوئی ہیں اور منصوبے کا مقصد ٹریفک اور عوامی نقل و حرکت کو بہتر بنانا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کارروائی کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دینے کی بنیاد موجود نہیں۔
پولیس کی کارروائی اور گرفتاریاں
جھڑپوں کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کردی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے آنسو گیس اور دیگر اقدامات کے ذریعے ہجوم کو منتشر کیا۔ بعض رپورٹس میں متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی ہے، جبکہ پولیس نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی بات کی ہے۔

دوسری جانب تازہ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسجد کے متاثرہ حصے کو بعض مقامی افراد کی جانب سے خود ہٹانے کا عمل شروع کیا گیا، جبکہ انتظامیہ نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سکیورٹی بڑھا دی ہے۔
مسجد انتظامیہ کا مؤقف
مسجد سے متعلق درخواست گزاروں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ ایک قدیم مذہبی مقام ہے اور مجوزہ کارروائی سے نماز ہال، بلند مینار اور دیگر مذہبی حصے متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی عمارت کو سڑک کشادگی سے بچایا جانا چاہیے۔

یوں اجین میں شاہی مسجد کا معاملہ اب احتجاج، عدالتی فیصلے اور شہری انفراسٹرکچر منصوبے کے درمیان تنازع کی صورت اختیار کرچکا ہے، جبکہ انتظامیہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی اقدامات کر رہی ہے۔
شائع ہوا: 29 ستمبر، 2026 کو 07:13 AM
آخری تدوین: 29 ستمبر، 2026



