ایران میں امریکی فوجیوں کی ممکنہ تدفین کے لیے 5 ہزار قبروں کی تیاری

ایران نے ممکنہ جنگی حالات میں امریکی فوجیوں کی عارضی تدفین کیلئے تقریباً 5 ہزار قبروں کی گنجائش والا مقام تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بہشت زہرا کے سی ای او محمد جواد تاجک کے مطابق یہ انتظام ہنگامی منصوبہ بندی کا حصہ ہے
تہران: ایران نے ممکنہ جنگی یا غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے امریکی فوجی اہلکاروں کی لاشوں کی عارضی تدفین سے متعلق انتظامات مکمل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران کی شہری حدود سے باہر ایک مقام پر تقریباً 5 ہزار قبروں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
بہشت زہرا قبرستان کے سی ای او محمد جواد تاجک نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مقام ممکنہ بحرانی صورتحال میں غیر ملکی فوجی اہلکاروں کی لاشوں کے انتظام اور عارضی تدفین کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
محمد جواد تاجک کے مطابق متعلقہ اداروں کو مختلف ہنگامی حالات کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرنا ہوتی ہے، جس میں غیر ملکی فوجی دستوں کے ایرانی سرزمین میں داخل ہونے کا ممکنہ منظرنامہ بھی شامل ہے۔ اسی تناظر میں لاشوں کو عارضی طور پر محفوظ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر تدفین کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ ایران میں جنگ یا امریکی فوجی دستوں کے تہران میں داخل ہونے کو یقینی سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے بقول یہ اقدامات بحران سے نمٹنے اور ہنگامی حالات کے لیے معمول کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے سامنے آنے والا یہ بیان ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر گیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث کسی بھی ممکنہ فوجی صورتحال پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 16 اگست، 2026 کو 03:11 AM
آخری تدوین: 16 اگست، 2026



