وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

ایران کو 3 پائلٹس کے قطر میں قید ہونے کا شبہ، ریڈ کراس سے مدد کی اپیل

W
Web Desk
16 اگست، 2026
ایران کو 3 پائلٹس کے قطر میں قید ہونے کا شبہ، ریڈ کراس سے مدد کی اپیل

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2026 میں لاپتہ ہونے والے 3 ایرانی پائلٹس قطر میں زیرِ حراست ہیں اور ریڈ کراس سے ان کی صورتحال واضح کرنے میں مدد مانگی ہے، جبکہ قطر نے دعوے کی تردید کر دی

تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2026 میں لاپتہ ہونے والے اس کے 3 فوجی پائلٹس ممکنہ طور پر قطر میں زیرِ حراست ہیں، جبکہ تہران نے ان کی صورتحال واضح کرنے کے لیے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) سے مدد طلب کر لی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمد باقر زادہ نے آئی سی آر سی کی صدر ماریانا سپولیئرک کو خط لکھ کر 3 پائلٹس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور ان کی صورتحال معلوم کرنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔

محمد باقر زادہ کے مطابق 2 مارچ 2026 کو 2 ایس یو-24 جنگی طیارے قطر میں موجود ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کے مشن پر روانہ ہوئے تھے۔ ان کے بقول مشن مکمل کرنے کے بعد واپسی کے دوران دونوں طیاروں کو مخالف کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں طیاروں میں موجود 4 پائلٹس متاثر ہوئے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان پائلٹس میں سے ماجد کاظمی کی لاش بعد میں ایران منتقل کی گئی، جہاں انہیں شیراز میں سپردِ خاک کیا گیا، جبکہ باقی 3 پائلٹس، جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بہروشیان کے بارے میں ایران کا دعویٰ ہے کہ انہیں قطری افواج نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔

دوسری جانب قطر نے ایرانی دعوے کی تردید کی ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران ایسے بیانات سامنے آنے پر اسے حیرت ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ مارچ میں قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد قطری حکام نے ایرانی پائلٹس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی اور ان کے طے شدہ راستے کی تصدیق کی گئی تھی۔

ان کے مطابق جب پائلٹس کی جانب سے پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو قطر نے تنازعات سے متعلق قوانین اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کی۔

ماجد الانصاری نے مزید کہا کہ قطری امدادی ٹیموں نے بعد ازاں پائلٹس کی تلاش کے لیے آپریشن کیا، جس دوران ایک پائلٹ کی لاش ملی۔ ان کے بقول قطری حکومت نے باقیات ایران کے حوالے کرنے کے لیے تہران سے بھی رابطہ کیا تھا۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 16 اگست، 2026 کو 03:55 AM

آخری تدوین: 16 اگست، 2026

متعلقہ مضامین