ایران کو ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کی دعوت؟

اسرائیلی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ ایران کو دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی باقائدہ پیشکش کی گئی ہے تاہم ایران نے ان خبروں کہ تردید کی ہے
( واشنگٹن ) ایران کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے نئے قائم ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی دعوت دیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے

اسرائیلی اخبار دی یروشلم پوسٹ کے مطابق یہ دعویٰ ایرانی عہدیدار کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے خبر رساں ادارے ’’خانه ملت‘‘ کے سربراہ مہدی رحیمی نے بتایا کہ ایران کو مکہ معاہدہ برائے باہمی دفاع میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے اور اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم اس دعوے کی سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان یا ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے اس وقت تک باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تھی

مکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ میں دستخط کیا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے اس دفاعی نظام کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ معاہدے میں دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت میں تعاون اور اعلیٰ سطح پر سفارتی و عسکری رابطوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے

ایرانی عہدیدار مہدی رحیمی کے مطابق خطے کے ممالک اب علاقائی سکیورٹی کے لیے ایک مشترکہ نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران طویل عرصے سے خطے میں علاقائی سکیورٹی کے ایسے انتظام کی حمایت کرتا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے پہلے ہی پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے پر محتاط مثبت ردعمل دیا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 10 اگست کو کہا تھا کہ تہران کو اس معاہدے پر تشویش کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور یہ علاقائی ممالک کے سکیورٹی کے حوالے سے اپنے وسائل اور صلاحیتوں پر زیادہ انحصار کی جانب تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
ترکیہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ مستقبل میں مزید ممالک کے لیے بھی کھولا جا سکتا ہے، جبکہ مصر کو ممکنہ رکن کے طور پر زیرِ غور لائے جانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں

اگر ایران کی شمولیت کی دعوت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پیش رفت خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ ایران کی شمولیت سے یہ اتحاد صرف سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تک محدود دفاعی تعاون کے بجائے ایک وسیع تر علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت میں 24 اگست کو ایرانی وزارت خارجہ نے باضابطہ طور پر اس بات کی تردید کی کہ تہران کو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی کوئی رسمی دعوت موصول ہوئی ہے۔
شائع ہوا: 24 اگست، 2026 کو 04:16 PM
آخری تدوین: 24 اگست، 2026



