سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے بھارت پر سنگین الزامات، 16 اگست کو خالصتان ریفرنڈم کا اعلان

سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارت پر سکھوں کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے اور 16 اگست کو امریکی ریاست انڈیانا میں خالصتان ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا۔ پنوں نے خالصتان کے مجوزہ دارالحکومت، سکھ ہوم لینڈ سیکیورٹی فورس اور مستقبل کی جدوجہد سے متعلق اہم دعوے بھی کیے۔ بھارت ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے
سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارت پر سکھ برادری کے خلاف نسل کشی، معاشی دباؤ اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے 16 اگست کو امریکی ریاست انڈیانا میں خالصتان ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گرپتونت سنگھ پنوں نے پاکستانی عوام کو جشنِ آزادی کی مبارکباد دی اور جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی ترقی اور عالمی سطح پر کردار کو سراہا۔

پنوں نے دعویٰ کیا کہ 1947 میں سکھوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا، جبکہ 1980 کی دہائی میں بھی سکھ برادری کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے 1984 کے واقعات کو سکھوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے موجودہ بھارتی حکومت پر بھی سکھ آبادی کے خلاف منظم اقدامات کے الزامات عائد کیے۔
سکھ رہنما نے بھارتی پنجاب میں منشیات کے پھیلاؤ، زرعی بحران، بھاری قرضوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کو سکھ نوجوانوں اور کسانوں کے لیے سنگین مسائل قرار دیا۔ تاہم بھارتی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے اعلان کیا کہ خالصتان کے قیام کے لیے ریفرنڈم 16 اگست کو امریکی ریاست انڈیانا میں ہوگا، جس میں امریکا سمیت مختلف ممالک میں آباد سکھوں کو اپنی رائے دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے شملہ کو مجوزہ خالصتان کا دارالحکومت قرار دیتے ہوئے ’’سکھ ہوم لینڈ سیکیورٹی فورس‘‘ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ پنوں کے مطابق یہ فورس سکھ برادری کے تحفظ اور کسی حملے کی صورت میں دفاعی کردار ادا کرے گی۔
سکھ فار جسٹس کے رہنما نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے مسلح جدوجہد کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم ووٹ کے ذریعے تبدیلی کی کوششیں جاری رکھے گی جبکہ مسلح جدوجہد کرنے والوں کی بھی حمایت کی جائے گی۔

پنوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مستقبل میں سکھ علیحدہ ریاست کے لیے جدوجہد شروع کریں گے تو بھارتی فوج میں موجود بعض سکھ اہلکار ان کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ پہلے پنجاب آزاد ہوگا، پھر کشمیر آزاد ہوگا اور اس کے بعد بھارت تقسیم ہو جائے گا۔
انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو 15 اگست کو بھارتی پرچم لہرانے سے روکنے والے شخص کے لیے ایک لاکھ 11 ہزار ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا۔
گرپتونت سنگھ پنوں کے الزامات اور دعووں کو بھارت کی جانب سے مسلسل مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ سکھ فار جسٹس بھارت سے علیحدہ خالصتان کے قیام کی مہم چلاتی ہے، جبکہ بھارتی حکومت اس تنظیم کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 13 اگست، 2026 کو 02:44 AM
آخری تدوین: 13 اگست، 2026



