وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے: سعودی وزیر خارجہ

W
Web Desk
27 ستمبر، 2026
آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے: سعودی وزیر خارجہ

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی و تحفظ پر زور دیا اور آبی گزرگاہوں کے بلیک میلنگ کے لیے استعمال کو ناقابلِ قبول قرار دیا

نیویارک: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسی اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی اور تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی تجارت، توانائی اور سپلائی چین کے تسلسل کے لیے اہم سمندری راستوں کا محفوظ رہنا انتہائی ضروری ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری اور تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی خطے کی سلامتی کا براہِ راست تعلق عالمی توانائی کی فراہمی اور سپلائی چین کے تسلسل سے ہے، اس لیے اہم بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک خطے کا مطالبہ

سعودی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک خطہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کو ضروری قرار دیا۔

فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد

فیصل بن فرحان نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی تمام کوششوں کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس وقت غیرمعمولی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو تعاون اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہوگا۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 27 ستمبر، 2026 کو 04:04 AM

آخری تدوین: 27 ستمبر، 2026

متعلقہ مضامین