اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت پر سخت مؤقف، صائمہ سلیم نے دہشت گردی اور کشمیر کا معاملہ اٹھا دیا

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم نے بھارت پر ریاستی سطح پر پروپیگنڈا اور دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات عائد کردیئے۔ صائمہ سلیم نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مقبوضہ کشمیر، ہندوتوا اور سندھ طاس معاہدے سمیت اہم معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا اور کہا کہ پاکستان امن اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، تاہم جارحیت کی صورت میں دفاع کرے گا
اسی موضوع سے پڑھیں
نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم نے بھارت پر ریاستی سطح پر پروپیگنڈا اور دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔
جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران صائمہ سلیم نے الزام عائد کیا کہ بھارت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سمیت مختلف گروہوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے شواہد عالمی برادری کے سامنے پیش کر چکا ہے اور کلبھوشن یادیو سمیت مختلف مقدمات کا حوالہ بھی دیا۔
پاکستانی سفارتکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا معاملہ بھی اقوام متحدہ میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔ پاکستان کا یہ مؤقف اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر مسلسل پیش کیا جاتا رہا ہے۔
صائمہ سلیم نے بھارت میں ہندوتوا نظریے، اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف مبینہ امتیازی رویے اور انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ بھی حالیہ بیانات میں کہہ چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل اور قانونی طور پر پابند ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان امن، باہمی احترام، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔
شائع ہوا: 26 ستمبر، 2026 کو 11:57 AM
آخری تدوین: 26 ستمبر، 2026



