مکہ دفاعی اتحاد کا سعودی عرب کی سلامتی کیلئے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کا اعلان

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا نیویارک میں اجلاس، مکہ مکرمہ اور سعودی عرب میں حملوں کی مذمت، سعودی دفاع کیلئے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کا اعلان
اسی موضوع سے پڑھیں
نیویارک: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے مکہ مکرمہ اور سعودی عرب میں شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق کی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق نیویارک میں سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے شرکا نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
سعودی عرب کی حمایت کیلئے ہنگامی اجلاس کا فیصلہ
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک ہنگامی اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کریں گے۔
اجلاس میں حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس سلسلے میں اپنے اپنے ممالک کے چیف آف اسٹاف کا ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
ترکیہ کا مکہ دفاعی معاہدے کے دفاع میں مؤقف
دوسری جانب ترک وزیر خارجہ خاقان فدان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ خطے کے امن و استحکام کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
نیویارک میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے خاقان فدان نے دفاعی معاہدے پر ہونے والی تنقید کا حوالہ دیا اور نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول کا ذکر کیا۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ نیٹو کے تقریباً 50 سالہ عرصے میں اجتماعی دفاع سے متعلق آرٹیکل 5 صرف ایک مرتبہ نافذ کیا گیا، تاہم اسے کاغذی شیر قرار نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ نئے قائم ہونے والے دفاعی اتحاد سے یمن کے طویل عرصے سے جاری بحران کو فوری طور پر حل کرنے کی توقع رکھنا مناسب نہیں۔
ایران کا حوثیوں سے متعلق مؤقف
مکہ دفاعی اتحاد کے اجلاس کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں ایران اور حوثیوں کے درمیان تعلق کے حوالے سے گفتگو کی۔
مسعود پزشکیان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے ایک روز بعد امریکی ٹی وی پروگرام اسپیشل رپورٹ ود بریٹ بائر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔
تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے آئندہ کے اقدامات پر مزید غور کیا جائے گا۔
شائع ہوا: 25 ستمبر، 2026 کو 06:50 AM
آخری تدوین: 25 ستمبر، 2026



