’ایک کے بعد ایک غلطی‘: امریکی ریپبلکنز نے انتخابی شکست کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

امریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کے بعد پارٹی رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کم مقبولیت، غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی کو انتخابی ناکامی کی بڑی وجوہات قرار دے دیا
امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کا حجم واضح ہونے کے بعد پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے اس کی ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کرنا شروع کر دی ہے۔
انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کے بعد ریپبلکن حلقوں میں انتخابی حکمت عملی اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ریپبلکن رہنماؤں کو ابتدا ہی سے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کا خدشہ تھا، تاہم کئی رہنماؤں کو امید تھی کہ سینیٹ میں پارٹی اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن نتائج سامنے آنے کے بعد دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھونے کی ذمہ داری ٹرمپ پر ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
’شکست کی ذمہ داری صرف ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے‘
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے طویل عرصے سے ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے انتخابی ناکامی پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس شکست کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں بلکہ خود صدر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔ یہ دراصل صدر ٹرمپ کو مکمل طور پر مسترد کیے جانے کا نتیجہ ہے۔
ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کے مضبوط حلقوں میں کامیابی حاصل کرلی
انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹس نے ایسی متعدد ریاستوں میں سینیٹ کی نشستیں حاصل کی ہیں جہاں انہیں کئی برسوں بلکہ بعض مقامات پر دہائیوں سے کامیابی نہیں ملی تھی۔
ٹیکساس اور جنوبی کیرولائنا ان ریاستوں میں نمایاں ہیں، جبکہ آئیوا اور اوہائیو جیسے علاقوں میں بھی ڈیموکریٹس نے اہم انتخابی پیش رفت کی ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں ٹرمپ کے دور میں ریپبلکنز کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہوئی تھی۔
ٹرمپ کی پالیسیاں اور مہنگائی شکست کی وجوہات قرار
متعدد ریپبلکن رہنماؤں کے مطابق صدر ٹرمپ کی کم ہوتی مقبولیت، غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی سے متعلق عوامی خدشات کو مسلسل کم اہمیت دینے کے رویے نے پارٹی کو انتخابی نقصان پہنچایا۔
ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے بھی انتخابی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کے بعد ایک غلطی کا نتیجہ تھا۔
ان کے مطابق مختلف ریاستوں میں ووٹروں نے واضح طور پر صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔
انتخابی نتائج کے بعد ریپبلکن پارٹی میں قیادت، سیاسی حکمتِ عملی اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے حوالے سے بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کی کامیابی نے امریکی کانگریس میں سیاسی توازن تبدیل ہونے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
شائع ہوا: 4 نومبر، 2026 کو 05:58 AM
آخری تدوین: 4 نومبر، 2026



