وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکی وسط مدتی انتخابات

’ایک کے بعد ایک غلطی‘: امریکی ریپبلکنز نے انتخابی شکست کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

W
Web Desk
4 نومبر، 2026
’ایک کے بعد ایک غلطی‘: امریکی ریپبلکنز نے انتخابی شکست کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

امریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کے بعد پارٹی رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کم مقبولیت، غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی کو انتخابی ناکامی کی بڑی وجوہات قرار دے دیا

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کا حجم واضح ہونے کے بعد پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے اس کی ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کرنا شروع کر دی ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کے بعد ریپبلکن حلقوں میں انتخابی حکمت عملی اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ریپبلکن رہنماؤں کو ابتدا ہی سے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کا خدشہ تھا، تاہم کئی رہنماؤں کو امید تھی کہ سینیٹ میں پارٹی اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن نتائج سامنے آنے کے بعد دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھونے کی ذمہ داری ٹرمپ پر ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

’شکست کی ذمہ داری صرف ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے‘

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے طویل عرصے سے ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے انتخابی ناکامی پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس شکست کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں بلکہ خود صدر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔ یہ دراصل صدر ٹرمپ کو مکمل طور پر مسترد کیے جانے کا نتیجہ ہے۔

ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کے مضبوط حلقوں میں کامیابی حاصل کرلی

انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹس نے ایسی متعدد ریاستوں میں سینیٹ کی نشستیں حاصل کی ہیں جہاں انہیں کئی برسوں بلکہ بعض مقامات پر دہائیوں سے کامیابی نہیں ملی تھی۔

ٹیکساس اور جنوبی کیرولائنا ان ریاستوں میں نمایاں ہیں، جبکہ آئیوا اور اوہائیو جیسے علاقوں میں بھی ڈیموکریٹس نے اہم انتخابی پیش رفت کی ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں ٹرمپ کے دور میں ریپبلکنز کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہوئی تھی۔

ٹرمپ کی پالیسیاں اور مہنگائی شکست کی وجوہات قرار

متعدد ریپبلکن رہنماؤں کے مطابق صدر ٹرمپ کی کم ہوتی مقبولیت، غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی سے متعلق عوامی خدشات کو مسلسل کم اہمیت دینے کے رویے نے پارٹی کو انتخابی نقصان پہنچایا۔

ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے بھی انتخابی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کے بعد ایک غلطی کا نتیجہ تھا۔

ان کے مطابق مختلف ریاستوں میں ووٹروں نے واضح طور پر صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔

انتخابی نتائج کے بعد ریپبلکن پارٹی میں قیادت، سیاسی حکمتِ عملی اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے حوالے سے بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کی کامیابی نے امریکی کانگریس میں سیاسی توازن تبدیل ہونے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 4 نومبر، 2026 کو 05:58 AM

آخری تدوین: 4 نومبر، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی تاریخ میں پہلی بار 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوان نمائندگان کی رکن منتخب
امریکی وسط مدتی انتخابات

امریکی تاریخ میں پہلی بار 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوان نمائندگان کی رکن منتخب

امریکی وسط مدتی انتخابات 2026 میں 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہو گئیں۔ کیشا لانس باٹمز، جینا ہنوسا اور ڈیب ہالینڈ نے بھی گورنر انتخابات میں تاریخی کامیابیاں حاصل کیں

Web Desk5 نومبر، 2026
ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کو مزید 13 سینیٹرز کی حمایت درکار
امریکی وسط مدتی انتخابات

ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کو مزید 13 سینیٹرز کی حمایت درکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں 67 ووٹ درکار ہیں۔ ڈیموکریٹس کو مواخذے کی کامیابی کے لیے مزید 13 سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنا ہوگی

Web Desk5 نومبر، 2026
امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، نیتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
تازہ ترین

امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، نیتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد اسرائیلی اپوزیشن نے وزیراعظم نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ اپوزیشن نے امریکا سے تعلقات خراب کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا

Web Desk5 نومبر، 2026