پی ٹی آئی واضح کرے وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کے ساتھ ؟ وفاقی وزرا

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت پر دہشتگردی کے معاملے میں سخت سوالات اٹھا دیے۔ وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی تشکیلیں پاکستان آ رہی ہیں اور دہشتگرد ڈالرز کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں
اسی موضوع سے پڑھیں
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی صورتحال اور صوبائی حکومت کے اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کے ساتھ۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے ڈی آئی خان امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری شہید ہوئے جبکہ ریسکیو اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
طلال چوہدری کے مطابق ڈی آئی خان حملے میں ایک دہشتگرد کی تصویر نادرا اور دیگر ریکارڈ سے چیک کی گئی، تاہم اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔ ان کے بقول اوپن سورس معلومات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔
وزیر مملکت داخلہ نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی تشکیلیں پاکستان آتی ہیں اور ان میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈوزیئرز، مذاکرات اور دیگر ذرائع سے افغان حکام سے رابطے کیے، تاہم ان کے مطابق مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
طلال چوہدری نے مزید الزام عائد کیا کہ دہشتگرد ڈالرز کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں اور دہشتگردی کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ڈی آئی خان کے دورے کے دوران افغانستان اور دہشتگردوں کا واضح نام کیوں نہیں لیا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر سکیورٹی فورسز کو مطلوبہ وسائل فراہم نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ سی ٹی ڈی، بلٹ پروف گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں کے بغیر دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی مشکل ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے سکیورٹی کے لیے فراہم کی گئی بعض بلٹ پروف گاڑیاں واپس کیں جبکہ پولیس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے پولیس کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا سے 800 ارب روپے کے استعمال کا حساب مانگا ہے۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر عملدرآمد اور دہشتگردی کے خلاف صوبائی و وفاقی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی پر دہشتگردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مؤقف پر قائم ہیں کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی ’’بی ٹیم‘‘ ہے۔ یہ الزامات وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں، جبکہ انہوں نے پی ٹی آئی کے حوالے سے سوال اٹھایا کہ دہشتگرد اس جماعت کو تنقید کا نشانہ کیوں نہیں بناتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا الزام تھا کہ ایسی گاڑیوں کی قانونی رجسٹریشن نہ ہونے سے دہشتگردی کے واقعات میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کا سراغ لگانے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے معاملے پر سیاست سے بالاتر ہوکر واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت کا عزم ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
شائع ہوا: 28 ستمبر، 2026 کو 12:24 PM
آخری تدوین: 28 ستمبر، 2026



