لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم، پنجاب کے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ نکالنے سے روک دیا


لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو نکالنے اور ان کے امتحانات منسوخ کرنے سے روک دیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے افغان میڈیکل طلبہ کے کیس میں اہم ریمارکس دیے اور مزید سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو کالجز سے نکالنے اور ان کے امتحانات منسوخ کرنے سے روک دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس خالد اسحاق نے 30 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کی جانب سے کالجز سے اخراج کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت پی ایم ڈی سی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان طلبہ کے پاس درست ویزے موجود نہیں ہیں۔
جسٹس خالد اسحاق نے استفسار کیا کہ جب طلبہ کو داخلہ دیا گیا تو انہیں ایجوکیشن ویزے کیسے جاری کیے گئے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ چار، چار سال ان طلبہ کی زندگی ضائع کرنے کے بعد اب انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے، نکالنے سے پہلے کم از کم ایک بار انہیں سنا تو جاتا۔
جسٹس خالد اسحاق نے مزید ریمارکس دیے کہ پی ایم ڈی سی کو ’’شاہی حکم‘‘ آیا جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ کل تک یہ طلبہ ’’فیورٹ چائلڈ‘‘ تھے اور آج پالیسی تبدیل ہوگئی۔
پی ایم ڈی سی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مؤثر ویزا نہ ہونے کی صورت میں کسی شخص کا ملک میں رہنا ممکن نہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ طلبہ کو میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس بھیجا جائے۔
ریاستی سکیورٹی کے مؤقف پر جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ یہ ریاستی سکیورٹی کا معاملہ نہیں ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب کا کوئی میڈیکل کالج کسی افغان طالب علم کو نکالے گا نہ ہی اس کا امتحان منسوخ کرے گا۔ عدالت نے درخواستوں پر مزید کارروائی 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔

شائع ہوا: 11 ستمبر، 2026 کو 12:52 PM
آخری تدوین: 11 ستمبر، 2026



