مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے، حقان فیدان

ترک وزیر خارجہ حقان فیدان کا کہنا ہے کہ حوثی حملوں کے باعث سعودی عرب کی کچھ عسکری ضروریات ہوسکتی ہیں، جن کا پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت جائزہ لیا جائے گا
انقرہ: ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے کہا ہے کہ یمنی حوثیوں کے جاری حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کو کچھ عسکری ضروریات درپیش ہوسکتی ہیں، جن کا جائزہ پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت لیا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اپنے بیان میں حقان فیدان نے کہا کہ سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے تمام فریقین تک تجاویز پہنچا دی گئی ہیں۔
ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا حصہ بنانا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خطے میں بڑھتے ہوئے بحران کے معاشی اثرات کی طرف بھی اشارہ کرتے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ سعودی عرب کی عسکری ضروریات کا جائزہ پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت لینے کی بات بھی اسی تناظر میں ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا بحران اب معاشی طور پر ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔
حقان فیدان نے مزید کہا کہ ترکی نے یوکرین اور روس کو بھی بحیرۂ اسود میں جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ سعودی عرب کی عسکری ضروریات کا جائزہ پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت لینے کی بات بھی اسی تناظر میں کی گئی ہے۔
شائع ہوا: 20 ستمبر، 2026 کو 03:09 AM
آخری تدوین: 20 ستمبر، 2026



