ٹرمپ انتظامیہ کا عالمی فوجداری عدالت پر پابندیوں کا منصوبہ، امریکی میڈیا کا دعویٰ

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت (ICC) پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری، امریکی میڈیا نے اہم دعویٰ کر دیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مجوزہ پابندیوں کے تحت آئی سی سی کے بیشتر مالی لین دین کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ عدالت کو 6 سے 7 ماہ کی مہلت دی جائے گی۔ رپورٹ میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری کے بعد واشنگٹن اور آئی سی سی کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو بھی نمایاں کیا گیا ہے
واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت، آئی سی سی، پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کا انکشاف ہوا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام اور دستاویزات کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ زیادہ تر مالی اور دیگر لین دین پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ پابندیوں کے تحت آئی سی سی کو تقریباً 6 سے 7 ماہ کی مہلت دی جائے گی، جس کے بعد عدالت کے ساتھ زیادہ تر لین دین پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ اقدام اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد عالمی فوجداری عدالت کے خلاف واشنگٹن کی کارروائیوں میں مزید شدت کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پابندیوں کے نتیجے میں عالمی فوجداری عدالت کے لیے امریکی ڈالر میں مالی لین دین مشکل یا ناممکن ہو سکتا ہے، جس سے اسے عالمی مالیاتی نظام کے ایک بڑے حصے سے الگ ہونے کا خدشہ ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی پابندیوں کا یہ ممکنہ اقدام عالمی فوجداری عدالت کے مالی اور انتظامی معاملات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
شائع ہوا: 21 ستمبر، 2026 کو 05:37 AM
آخری تدوین: 21 ستمبر، 2026



