ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود مذاکرات کا دروازہ کھلا ہونے کا اشارہ دے دیا گیا۔ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ایران اپنا رویہ تبدیل کرے تو مذاکرات دوبارہ ہوسکتے ہیں، تاہم تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رکھا جائے گا۔ دوسری جانب قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی رابطوں کی تصدیق کی ہے جبکہ پاکستان بھی ثالثی کی کوششوں میں شریک ہے
واشنگٹن: اقوام متحدہ میں امریکا کے مستقل مندوب مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ایران اپنا رویہ تبدیل کرے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
مائیک والٹز کے مطابق امریکا ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی موجودہ جنگ 47 سال سے جاری تنازع کا تسلسل ہے۔
امریکی مندوب نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مقاصد پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کے بقول ایران دنیا میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا سب سے زیادہ سرگرم ملک ہے اور اسے جوہری ہتھیاروں کی آڑ میں دنیا کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مائیک والٹز نے مزید کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب قطر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے سفارتی رابطے اور مختلف تجاویز پر بات چیت جاری ہے، جبکہ پاکستان بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں شریک ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق قطر کی ثالثی ٹیم تہران اور واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ماجد الانصاری نے بتایا کہ قطر کو امریکی حکام کی جانب سے یہ یقین دہانیاں بھی موصول ہوئی ہیں کہ واشنگٹن کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔
شائع ہوا: 21 ستمبر، 2026 کو 06:43 AM
آخری تدوین: 21 ستمبر، 2026



