ورلڈ کپ 2027 کے نئے فارمیٹ پر اسکاٹ لینڈ، نیدرلینڈز کا آئی سی سی سے احتجاج

آئی سی سی نے 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے 14 ٹیموں پر مشتمل نیا فارمیٹ متعارف کرایا ہے، جس کے تحت 12ویں، 13ویں اور 14ویں ٹیمیں سپر سیریز میں مقابلہ کریں گی اور صرف ایک ٹیم اگلے مرحلے میں پہنچے گی۔ اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز کا مؤقف ہے کہ ورلڈ کپ سے 18 ماہ سے بھی کم عرصہ قبل فارمیٹ میں تبدیلی سے ایسوسی ایٹ ممالک کی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور عالمی کرکٹ میں ترقی متاثر ہوسکتی ہے۔
لندن: اسکاٹ لینڈ کرکٹ اور رائل ڈچ کرکٹ ایسوسی ایشن (کے این سی بی) نے آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے نئے فارمیٹ پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایسوسی ایٹ ممالک کی کرکٹ کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے گزشتہ ماہ 2027 کے ورلڈ کپ کے موجودہ فارمیٹ میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا تھا۔ نئے فارمیٹ کے تحت کوالیفائی کرنے والی 12ویں، 13ویں اور 14ویں ٹیمیں ایک سپر سیریز میں حصہ لیں گی، جس میں سے صرف ایک ٹیم ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں پہنچ سکے گی۔ دوسرے مرحلے میں 12 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔
فارمیٹ میں تبدیلی کے بعد اسکاٹ لینڈ کرکٹ، کے این سی بی اور دیگر ایسوسی ایٹ بورڈز نے آئی سی سی کے ساتھ دو اجلاس کیے۔ بورڈز نے نئے فیصلے کی باضابطہ تحریری وضاحت، طریقہ کار میں شفافیت اور مستقبل کے اہم فیصلوں میں ایسوسی ایٹ ممبرز کی شمولیت کا مطالبہ کیا۔
تاہم مشترکہ بیان میں اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز کرکٹ بورڈز نے کہا کہ دوسرے اجلاس کے دو ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آئی سی سی کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، جسے دونوں بورڈز نے مایوس کن اور توہین آمیز قرار دیا۔
دونوں بورڈز کے مطابق ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں اچانک تبدیلی ایسوسی ایٹ ممالک کی کرکٹ کے لیے ایک قدم پیچھے ہے اور عالمی کرکٹ کی ترقی کے لیے گزشتہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب کرکٹ عالمی سطح پر اپنی رسائی بڑھانے، نئے شائقین کو متوجہ کرنے اور کھیل کو مزید عالمی بنانے کی کوشش کر رہی ہے، ایسے میں ابھرتی ہوئی ٹیموں کے عالمی مقابلوں میں مواقع کم کرنا غلط پیغام دیتا ہے۔
اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز نے مؤقف اختیار کیا کہ ورلڈ کپ میں جگہ بنانے کے لیے کھلاڑی اور کرکٹ بورڈز کئی برس محنت اور وسائل صرف کرتے ہیں۔ کوالیفائنگ مرحلے کے دوران قواعد میں اچانک تبدیلی سے ٹیموں کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے جبکہ مالی اور انتظامی دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔
دونوں بورڈز کے مطابق ورلڈ کپ میں شرکت ایسوسی ایٹ ممالک کے لیے صرف کھیل کا موقع نہیں بلکہ سرمایہ کاری، اسپانسرز، حکومتی تعاون، نوجوان کھلاڑیوں اور نئے شائقین کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی مقابلوں میں ایسوسی ایٹ ممالک کی جانب سے فل ممبر ٹیموں کو شکست دینے سمیت کئی یادگار لمحات سامنے آچکے ہیں، جو اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ کامیابی کے مواقع میدان میں کارکردگی کی بنیاد پر ملنے چاہئیں۔
اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز نے خاص طور پر فارمیٹ میں تبدیلی کے وقت پر اعتراض کیا ہے۔ ان کے مطابق ورلڈ کپ شروع ہونے میں 18 ماہ سے بھی کم عرصہ باقی ہے، جس کے باعث متاثرہ ممالک کے پاس فیصلے پر اثرانداز ہونے یا اپنی منصوبہ بندی تبدیل کرنے کے لیے محدود وقت رہ گیا ہے۔
دونوں بورڈز نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسوسی ایٹ ممبرز کے ساتھ دوبارہ بامعنی مذاکرات کیے جائیں، فیصلہ سازی میں شفافیت لائی جائے اور مستقبل کے اہم انتظامی معاملات میں تمام ممبرز کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔
ورلڈ کپ 2027 کی کوالیفائنگ دوڑ میں امریکا، اسکاٹ لینڈ، نیدرلینڈز اور عمان ورلڈ کپ کوالیفائر کے لیے جگہ بنا چکے ہیں، جبکہ نمیبیا، کینیڈا، نیپال اور متحدہ عرب امارات کوالیفائر پلے آف میں حصہ لیں گے۔ عالمی کوالیفائر فروری 2027 میں شیڈول ہے۔
آئی سی سی کے نئے فارمیٹ کے تحت 2027 کا ورلڈ کپ 10 کے بجائے 14 ٹیموں پر مشتمل ہوگا۔ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کی میزبانی میں ہونے والے ایونٹ کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل فارمیٹ متعارف کرایا گیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق نئے فارمیٹ کا مقصد زیادہ مسابقتی کرکٹ کو یقینی بنانا اور شائقین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 11 اگست، 2026 کو 03:14 AM
آخری تدوین: 11 اگست، 2026



