شی جن پنگ کا امریکا اور ایران سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپسی کا مطالبہ

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں امریکا اور ایران پر مذاکرات کی طرف واپسی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر جامع معاہدے پر زور دیا
اسی موضوع سے پڑھیں
اسلام آباد: چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی طرف واپس آئیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی جانب پیش رفت کریں۔
چینی صدر ان دنوں امریکا کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ وائٹ ہاؤس آمد پر صدر ٹرمپ اور امریکی خاتونِ اول نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔

ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران ایک جامع معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گے، جس میں جوہری معاملے سمیت دیگر متعلقہ امور کا حل بھی شامل ہو۔
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شینہوا کے مطابق شی جن پنگ نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کے راستے پر واپس آئیں۔

چینی صدر نے کہا کہ چین ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہا ہے کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق چین متعلقہ فریقوں کو تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنے عزم پر قائم رہنے کی ترغیب دیتا رہا ہے۔
امریکا چین تعلقات پر بھی گفتگو
ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان متوازن تجارتی تعلقات کے قیام کے لیے کام جاری ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ملاقات میں سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت سمیت اہم امور بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور چین کے بہتر مستقبل کے لیے چینی صدر کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا اور دونوں رہنماؤں کے تعلقات باہمی احترام اور عوامی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں۔
شی جن پنگ کا امن اور تعاون پر زور
وائٹ ہاؤس میں عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین کے درمیان نیا تجارتی انتظام عالمی معیشت کے لیے اچھی خبر ہے۔
چینی صدر نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چینی اور امریکی عوام نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپانی عسکریت پسند جارحیت کے خلاف مل کر مقابلہ کیا۔

انہوں نے امریکا اور چین کے درمیان رابطے اور مذاکرات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈائیلاگ کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے اور باہمی اعتماد کو فروغ دے سکتے ہیں۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا کے تعاون کے بغیر دنیا کے کئی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے امریکی کمپنیوں کے لیے چینی مارکیٹ کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ امریکا میں بھی منصفانہ برتاؤ کیا جائے گا۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کو پرامن طور پر ساتھ رہنا چاہیے، کیونکہ باہمی تصادم دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک جنگ کے چکر میں پڑنے سے بچ سکتے ہیں۔

شی جن پنگ کا امریکا میں پرتپاک استقبال
اس سے قبل چینی صدر شی جن پنگ کے امریکا پہنچنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی پروٹوکول کے برخلاف خود ایئرپورٹ پہنچ کر ان کا استقبال کیا۔
چینی صدر کے استقبال کے لیے تقریباً 100 فٹ طویل سرخ قالین بچھایا گیا۔ دونوں ممالک کے قومی ترانوں کی دھنیں بجائی گئیں، شی جن پنگ کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ فوجی طیاروں نے فلائی پاسٹ بھی کیا۔

اہم نکات:
شی جن پنگ نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی طرف واپس آنے پر زور دیا۔
چینی صدر نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی جانب واپسی کا مطالبہ کیا۔
امریکا ایران کے جامع معاہدے میں جوہری معاملے سمیت دیگر امور شامل کیے جانے کی امید ظاہر کی گئی۔
شی جن پنگ نے امریکا چین مذاکرات، تجارت اور تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
دونوں ممالک کے درمیان تصادم سے گریز اور پرامن بقائے باہمی کی ضرورت پر بھی بات ہوئی۔
شائع ہوا: 25 ستمبر، 2026 کو 05:31 AM
آخری تدوین: 25 ستمبر، 2026



