کینیڈا اور ترکیہ میں اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ، تجارت اور دفاع میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنے اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی انقرہ میں ملاقات کے دوران کینیڈا اور ترکیہ نے دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا۔ معاہدے کے تحت دفاع، سلامتی، توانائی، اہم معدنیات اور تجارت میں تعاون بڑھایا جائے گا، جبکہ آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات کا پہلا دور آئندہ ماہ شروع ہونے کی توقع ہے
انقرہ: کینیڈا اور ترکیہ نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ معاہدے کا مقصد تجارت، دفاع، توانائی، سرمایہ کاری اور دیگر اہم شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
یہ معاہدہ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنے کے ترکیہ کے پہلے دوطرفہ دورے کے دوران انقرہ میں طے پایا، جہاں انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات کا پہلا دور آئندہ ماہ شروع ہونے کی توقع ہے۔

معاہدے کے تحت کینیڈا اور ترکیہ دفاع، سلامتی، جوہری توانائی، اہم معدنیات اور مائع قدرتی گیس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھاری محصولات عائد کرنے اور کینیڈا کی خودمختاری سے متعلق بیانات کے بعد وزیراعظم مارک کارنے امریکا پر اقتصادی انحصار کم کرنے اور عالمی سطح پر نئے تجارتی شراکت دار تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کینیڈا اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے، جبکہ آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات آئندہ دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
شائع ہوا: 23 اکتوبر، 2026 کو 05:01 AM
آخری تدوین: 23 اکتوبر، 2026



