خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، لیکن کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، تاہم اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور ہر قسم کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنا آسان فیصلہ نہیں تھا، تاہم دھرنوں اور احتجاج کے باعث ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
افغان سرزمین سے دہشت گردی پر تشویش
اسحاق ڈار نے الزام عائد کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد موجود ہیں اور پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
وزیر خارجہ نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور اپنے بین الاقوامی و دوطرفہ وعدوں کی پاسداری کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت کے لیے افغانستان کے دورے بھی کیے ہیں، تاہم افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔
اسحاق ڈار نے بھارت پر بھی پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کا تحفظ اور قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں اور ان معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے معاملے کا نوٹس لیا جائے۔
پاکستان امن چاہتا ہے، کمزوری نہ سمجھا جائے، عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، لیکن اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر کسی بھی قسم کے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قربانیاں دی ہیں اور پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کے باعث ملک کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔
انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کا معاملہ
وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں اور ٹی ٹی پی کے 6 ہزار سے زائد دہشت گرد وہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا اور عالمی فورمز پر افغانستان سے دہشت گردی کے معاملے کو مسلسل اٹھایا گیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان دیکھنا چاہتا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
عالمی امن کے لیے پاکستان کا کردار
عطا اللہ تارڑ نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں تناؤ کم کرنے کے لیے پاکستان کا کردار عالمی سطح پر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
شائع ہوا: 12 اکتوبر، 2026 کو 06:51 AM
آخری تدوین: 12 اکتوبر، 2026



