ٹرمپ نے انتخابی ناکامیوں کا ذمہ دار ’نام نہاد ریپبلکنز‘ اور فاکس نیوز کو ٹھہرا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی ناکامیوں کا ذمہ دار بعض پارٹی رہنماؤں اور فاکس نیوز کو قرار دیتے ہوئے گریگ ایبٹ پر بھی تنقید کی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی ناکامیوں کے بعد اپنی ہی جماعت کے بعض رہنماؤں اور معروف امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کو تنقید کا نشانہ بنا دیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اب ایک سیاسی مبصر کا کردار ادا کریں گے اور امیدواروں کی کامیابی یا ناکامی کی وجوہات پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔
امریکی صدر نے ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایبٹ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ’رائنو‘ (صرف نام کے ریپبلکن) نہ بنے ہوتے تو انتخابی نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔
ٹرمپ نے ویٹو کا اشارہ دے دیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی، جس پر انگریزی لفظ ’ویٹو‘ درج تھا۔

اس اقدام کو بظاہر اس صدارتی اختیار کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت صدر کانگریس سے منظور ہونے والے بل کو مسترد کر سکتا ہے۔
یہ اشارہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابی پیش گوئیوں کے مطابق آئندہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
فاکس نیوز بھی ٹرمپ کی تنقید کی زد میں
صدر ٹرمپ نے امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کو بھی انتخابی نتائج پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ چینل کو اپنی سیاسی نشریات میں ڈیموکریٹ شخصیات کو مسلسل جگہ دینے پر انتخابی نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

ٹرمپ کی جانب سے فاکس نیوز پر تنقید کو انتخابی نتائج کے بعد امریکی میڈیا اور ریپبلکن قیادت کے درمیان اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا‘
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا نام بیلٹ پیپر پر موجود نہیں تھا، ورنہ ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا: ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘
واضح رہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابیوں اور ریپبلکنز کو درپیش مشکلات کے بعد امریکی سیاست میں جماعتی قیادت، انتخابی حکمت عملی اور میڈیا کے کردار پر بحث جاری ہے۔
شائع ہوا: 4 نومبر، 2026 کو 05:54 AM
آخری تدوین: 4 نومبر، 2026



