وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکی وسط مدتی انتخابات

ٹرمپ نے انتخابی ناکامیوں کا ذمہ دار ’نام نہاد ریپبلکنز‘ اور فاکس نیوز کو ٹھہرا دیا

W
Web Desk
4 نومبر، 2026
ٹرمپ نے انتخابی ناکامیوں کا ذمہ دار ’نام نہاد ریپبلکنز‘ اور فاکس نیوز کو ٹھہرا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی ناکامیوں کا ذمہ دار بعض پارٹی رہنماؤں اور فاکس نیوز کو قرار دیتے ہوئے گریگ ایبٹ پر بھی تنقید کی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی ناکامیوں کے بعد اپنی ہی جماعت کے بعض رہنماؤں اور معروف امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کو تنقید کا نشانہ بنا دیا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اب ایک سیاسی مبصر کا کردار ادا کریں گے اور امیدواروں کی کامیابی یا ناکامی کی وجوہات پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

امریکی صدر نے ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایبٹ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ’رائنو‘ (صرف نام کے ریپبلکن) نہ بنے ہوتے تو انتخابی نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔

ٹرمپ نے ویٹو کا اشارہ دے دیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی، جس پر انگریزی لفظ ’ویٹو‘ درج تھا۔

اس اقدام کو بظاہر اس صدارتی اختیار کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت صدر کانگریس سے منظور ہونے والے بل کو مسترد کر سکتا ہے۔

یہ اشارہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابی پیش گوئیوں کے مطابق آئندہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

فاکس نیوز بھی ٹرمپ کی تنقید کی زد میں

صدر ٹرمپ نے امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کو بھی انتخابی نتائج پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ چینل کو اپنی سیاسی نشریات میں ڈیموکریٹ شخصیات کو مسلسل جگہ دینے پر انتخابی نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

ٹرمپ کی جانب سے فاکس نیوز پر تنقید کو انتخابی نتائج کے بعد امریکی میڈیا اور ریپبلکن قیادت کے درمیان اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا‘

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا نام بیلٹ پیپر پر موجود نہیں تھا، ورنہ ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا: ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘

واضح رہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابیوں اور ریپبلکنز کو درپیش مشکلات کے بعد امریکی سیاست میں جماعتی قیادت، انتخابی حکمت عملی اور میڈیا کے کردار پر بحث جاری ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 4 نومبر، 2026 کو 05:54 AM

آخری تدوین: 4 نومبر، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی تاریخ میں پہلی بار 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوان نمائندگان کی رکن منتخب
امریکی وسط مدتی انتخابات

امریکی تاریخ میں پہلی بار 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوان نمائندگان کی رکن منتخب

امریکی وسط مدتی انتخابات 2026 میں 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہو گئیں۔ کیشا لانس باٹمز، جینا ہنوسا اور ڈیب ہالینڈ نے بھی گورنر انتخابات میں تاریخی کامیابیاں حاصل کیں

Web Desk5 نومبر، 2026
ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کو مزید 13 سینیٹرز کی حمایت درکار
امریکی وسط مدتی انتخابات

ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کو مزید 13 سینیٹرز کی حمایت درکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں 67 ووٹ درکار ہیں۔ ڈیموکریٹس کو مواخذے کی کامیابی کے لیے مزید 13 سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنا ہوگی

Web Desk5 نومبر، 2026
امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، نیتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
تازہ ترین

امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، نیتن یاہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد اسرائیلی اپوزیشن نے وزیراعظم نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ اپوزیشن نے امریکا سے تعلقات خراب کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا

Web Desk5 نومبر، 2026