اسلام آباد ہائیکورٹ کا سلمان صفدر کوعمران خان سے ملاقات کا حکم

ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف کے وکیل سلمان صفدر کو بدھ کے روز دوپہر 2 بجے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی، جبکہ کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔
(اسلام آباد) چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر اور بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ 31 مارچ کو عدالت کی جانب سے ایک حکم جاری کیا گیا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ متفرق درخواست کیا ہے، جس پر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت کی کہ سلمان صفدر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔ چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ ملاقات کس وقت ہوگی، جس پر سلمان صفدر نے دوپہر دو بجے کا وقت تجویز کیا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ ملاقات کے بعد اپیل کو ہر ہفتے دو دن کے لیے سماعت کے لیے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ بہتر طریقے سے عدالت کی معاونت کر سکیں۔
سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی حد تک سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ سنانے کی استدعا بھی کی، تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب اپیل پر دلائل شروع ہوں گے تو عدالت سات دن میں فیصلہ دے دے گی۔
نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے کیس کی سماعت پیر کو مقرر کرنے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت مصروفیات دیکھ کر تاریخ مقرر کرتی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 اپریل، 2026 کو 01:03 PM
آخری تدوین: 7 اپریل، 2026



