ٹرمپ اور پوپ لیو 16 کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو 16 کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں دونوں شخصیات نے ایک دوسرے پر سخت تنقید کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں پوپ لیو 16 کو خارجہ پالیسی اور جرائم کے معاملے میں “کمزور” قرار دیا۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پوپ کے “بڑے مداح نہیں” ہیں۔
دوسری جانب پوپ لیو 16، جو حال ہی میں پہلے امریکی نژاد پوپ منتخب ہوئے، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے ناقد رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی امیگریشن پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انسانی اقدار کے منافی قرار دیا۔
گزشتہ ماہ پام سنڈے کے موقع پر ویٹیکن میں خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا تھا کہ خدا ایسے رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جو جنگیں شروع کرتے ہیں اور “جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں”۔ انہوں نے ایران کی صورتحال کو بھی انتہائی افسوسناک قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں پوپ پر جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر “کمزور مؤقف” رکھنے کا الزام بھی عائد کیا، جبکہ پوپ لیو 16 اس سے قبل امریکی صدر کے ایران سے متعلق سخت بیانات کو “ناقابل قبول” قرار دے چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ لفظی جنگ عالمی سیاست اور مذہبی حلقوں میں مزید بحث کو جنم دے سکتی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 13 اپریل، 2026 کو 06:38 AM
آخری تدوین: 13 اپریل، 2026



