حکمرانوں کو آج احساس ہوا کہ ملک نہیں چل رہا، شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان شدید معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کا شکار ہے۔ انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جامع معاشی اصلاحات پر زور دیا
اسلام آباد: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جبکہ ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ہر پاکستانی چار سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ غریب ہو چکا ہے، جبکہ بے روزگاری گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اعداد و شمار بھی غربت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران عوام کی آمدن میں مسلسل کمی آئی ہے اور مہنگائی کے باعث ہر گھرانے کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھایا، جس سے متوسط اور کم آمدن والے طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ واضح اور مستقل معاشی پالیسی نہ ہونے کے باعث ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جبکہ حکومت کی پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
زرعی شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ اصل فائدہ مڈل مین کو پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق مؤثر زرعی پالیسی نہ ہونے کے باعث زرعی صلاحیت رکھنے کے باوجود پاکستان کو گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان بہتر روزگار اور مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جا رہے ہیں، جبکہ بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتیں عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "حکمرانوں کو چار سے پانچ سال بعد احساس ہوا ہے کہ ملک درست طریقے سے نہیں چل رہا، حالانکہ عوام کافی عرصے سے یہی مسائل اٹھا رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحات کی بات شروع ہوتے ہی تنقید بھی شروع ہو جاتی ہے، جبکہ ملک کو حقیقی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ لاکھوں بچوں کو بنیادی حفاظتی ویکسین تک میسر نہیں، جبکہ صحت کے دیگر سنگین مسائل بھی ریاستی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں حقیقی اصلاحات کا فقدان ہے اور اصلاحات کے بغیر نہ معیشت مستحکم ہو سکتی ہے اور نہ ہی بڑھتے ہوئے قرضوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق صرف نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ آئین اور قانون کے مطابق پورا نظام چلانا ہوگا۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر شاہد خاقان عباسی نے زور دیا کہ پاکستان کی ترقی، معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، شفاف نظام اور مؤثر اصلاحات ناگزیر ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 1 اگست، 2026 کو 12:31 PM
آخری تدوین: 1 اگست، 2026



