امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ سے 2سے3ہفتوں میں نکل جائے گا

ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں بچی کہ ہم مزید جنگ جاری رکھیں۔ ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ آج استعمال کر چکا ہوتا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ سے 2سے3ہفتوں میں نکل جائے گا۔ ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں بچی کہ ہم مزید جنگ جاری رکھیں۔ ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ آج استعمال کر چکا ہوتا۔ رجیم چینج میرا مقصد نہیں تھا،میرا مقصد تھا کہ ایران کے پاس ایٹم بم نہ ہو۔
ہمیں خامنہ ای سے مسئلہ تھا اب وہ نہیں رہا۔ایران میں اب جو گروپ ہے وہ دوسروں سے مختلف ہے۔ایران میں موجودہ رجیم تک رسائی ہے اوروہ تحائف بھیج رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرمزکو ہر ایک کیلئے محفوظ بنارہے ہیں، فرانس یا کوئی دوسرا ملک تیل لینا خریدناچاہتا ہے تو آبنائے ہرمزسے جاکر لے۔ اگر کسی جہاز پر حملہ ہوتا ہے تو ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ آج سنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بہت بحری جہاز گزرے ہیں،
ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ آپ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا سوچ رہے ہیں، ہم امریکا محفوظ بنا نے کا سوچ رہے ہیں۔ مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ کوئی ڈیل ہو جائے، اسٹاک مارکیٹ آج اوپر گئی ہے کیونکہ ہمارا ملک محفوظ ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 1 اپریل، 2026 کو 05:27 AM
آخری تدوین: 1 اپریل، 2026



