نائن الیون کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمہ جون 2028 میں شروع ہوگا

نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے خلاف امریکی فوجی عدالت میں مقدمے کی سماعت جون 2028 میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ خالد شیخ محمد 2003 سے امریکی تحویل میں ہیں اور بعد ازاں انہیں گوانتانامو بے منتقل کیا گیا تھا
واشنگٹن: نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت جون 2028 میں ایک امریکی فوجی عدالت میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک جج کے فیصلے کے تحت خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ خالد شیخ محمد کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے اہم اور قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔
خالد شیخ محمد کو مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انہیں تقریباً تین برس تک سی آئی اے کے خفیہ حراستی مراکز میں رکھا گیا، جس کے بعد 2006 میں انہیں کیوبا میں قائم امریکی فوجی حراستی مرکز گوانتانامو بے منتقل کر دیا گیا۔
نائن الیون حملے 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہوئے تھے، جنہیں جدید تاریخ کے اہم ترین اور ہلاکت خیز واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان حملوں میں مسافر طیاروں کو امریکی اہداف سے ٹکرایا گیا، جن میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز بھی شامل تھے، جو حملوں کے بعد منہدم ہو گئے۔
ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت کی امریکی حکومت نے حملوں کا الزام القاعدہ پر عائد کیا تھا، جس کے سربراہ اسامہ بن لادن تھے۔
نائن الیون کے واقعے کے تقریباً ایک ماہ بعد امریکا نے افغانستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں طالبان کی اُس وقت کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
امریکا نے بعد میں 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں ایک کارروائی کے دوران القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمہ طویل عرصے سے قانونی اور عدالتی پیچیدگیوں کا شکار رہا ہے، جبکہ جون 2028 میں متوقع سماعت کو نائن الیون حملوں سے متعلق انصاف کے عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
شائع ہوا: 27 اگست، 2026 کو 06:14 AM
آخری تدوین: 27 اگست، 2026



