آبنائے ہرمز کے بحری راستے پر عمان سے اتفاقِ رائے، مشترکہ اعلان جلد متوقع: ایران

ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے گزرنے کے راستے کی جغرافیائی حدود پر عمان کے ساتھ اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، جبکہ پاکستان اور قطر کے ساتھ سفارتی مشاورت بھی جاری ہے
ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے گزرنے کے راستے کی جغرافیائی حدود سے متعلق عمان کے ساتھ اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، جبکہ اس معاملے پر پاکستان اور قطر کے ساتھ بھی سفارتی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے بحری راستے کی جغرافیائی خصوصیات پر متفق ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ اعلامیے کی تیاری کے آخری مرحلے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر "کسی تیسرے فریق" کی جانب سے کوئی مداخلت نہ ہوئی تو اس پیش رفت سے متعلق مشترکہ اعلان جلد جاری کر دیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ایران اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے میں ہے اور پاکستان و قطر کے ذریعے مختلف امور پر مشاورت جاری ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی یا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے پاکستان یا قطر کے دورے کا کوئی پروگرام زیر غور نہیں ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال، بحری سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر علاقائی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط اور مشاورت آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی سفارتی پیش رفت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 6 اگست، 2026 کو 03:51 AM
آخری تدوین: 6 اگست، 2026



