آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا 10 روز میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم


آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایسے علاقوں کے علاوہ جہاں امن و امان کی صورتحال سازگار نہیں، باقی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس 10 روز کے اندر بحال کی جائے۔ طویل انٹرنیٹ بندش سے طلبہ، فری لانسرز، تاجروں اور سرکاری امور شدید متاثر ہوئے ہیں
آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے حکومت آزاد کشمیر کو انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے 10 روز کی مہلت دے دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ جن علاقوں میں امن و امان کی صورتحال سازگار نہیں، انہیں استثنیٰ حاصل ہوگا، تاہم باقی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس آئندہ 10 روز کے اندر بحال کی جائے۔
ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد بہار نے بدھ کے روز انٹرنیٹ کی بحالی سے متعلق آزاد کشمیر بار ایسوسی ایشن اور ایک مقامی شہری کی جانب سے دائر الگ الگ درخواستوں کو یکجا کرکے ابتدائی سماعت کی۔
حکومت کو انٹرنیٹ بحالی کی ہدایت
سماعت کے دوران عدالت نے حکومت آزاد کشمیر کو زبانی احکامات جاری کرتے ہوئے 10 روز کے اندر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ امن و امان کی صورتحال ناسازگار ہونے والے علاقوں میں پابندی برقرار رکھنے کی گنجائش ہوگی۔
اس سے قبل 31 اگست کو وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کی ہدایت پر آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں مکمل جبکہ چار اضلاع میں جزوی طور پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔
جون سے انٹرنیٹ سروس کی بندش
آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس 5 جون کو راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ اور دھرنے کی کال کے بعد عائد پابندیوں کے باعث معطل کی گئی تھی۔
تقریباً 48 روز کی طویل بندش کے بعد انٹرنیٹ سروس پہلی مرتبہ جزوی طور پر بحال کی گئی، تاہم مظفرآباد میں ہڑتال اور تصادم کے بعد 25 جولائی کو سروس دوبارہ بند کردی گئی۔
31 اگست کو وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے پریس کلب مظفرآباد میں اپنی پہلی میڈیا ٹاک کے دوران انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد میرپور، نیلم اور حویلی میں ڈی ایس ایل انٹرنیٹ سروس بحال ہوگئی، تاہم مظفرآباد میں سروس تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی۔
طویل بندش سے شہری متاثر
انٹرنیٹ کی طویل بندش کے باعث آزاد کشمیر میں کاروباری سرگرمیاں اور سرکاری امور بری طرح متاثر ہوئے، جبکہ ہزاروں صارفین انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت سے محروم رہے۔
انٹرنیٹ بندش سے سب سے زیادہ طلبہ و طالبات متاثر ہوئے، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر انحصار کرنے والے تاجروں کو بھی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ فری لانسرز، سرکاری ملازمین اور دیگر پیشہ ور افراد کو بھی روزمرہ کے کام انجام دینے میں مشکلات پیش آئیں۔
انٹرنیٹ بندش کے بل معاف کرنے کا مطالبہ
دوسری جانب شہریوں اور فری لانسرز نے ہائی کورٹ کے 10 روز میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔
شہریوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور متعلقہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جن دنوں صارفین کو انٹرنیٹ سروس فراہم نہیں کی گئی، ان دنوں کے بل وصول نہ کیے جائیں۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی عدم دستیابی کے دوران صارفین کو مطلوبہ سہولت فراہم نہیں کی گئی اور کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں، اس لیے بندش کے عرصے کے انٹرنیٹ بل معاف کیے جائیں۔

شائع ہوا: 10 ستمبر، 2026 کو 03:24 AM
آخری تدوین: 10 ستمبر، 2026



