وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا 10 روز میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم

W
Web Desk
10 ستمبر، 2026
آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا 10 روز میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم

آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایسے علاقوں کے علاوہ جہاں امن و امان کی صورتحال سازگار نہیں، باقی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس 10 روز کے اندر بحال کی جائے۔ طویل انٹرنیٹ بندش سے طلبہ، فری لانسرز، تاجروں اور سرکاری امور شدید متاثر ہوئے ہیں

آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے حکومت آزاد کشمیر کو انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے 10 روز کی مہلت دے دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ جن علاقوں میں امن و امان کی صورتحال سازگار نہیں، انہیں استثنیٰ حاصل ہوگا، تاہم باقی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس آئندہ 10 روز کے اندر بحال کی جائے۔

ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد بہار نے بدھ کے روز انٹرنیٹ کی بحالی سے متعلق آزاد کشمیر بار ایسوسی ایشن اور ایک مقامی شہری کی جانب سے دائر الگ الگ درخواستوں کو یکجا کرکے ابتدائی سماعت کی۔

حکومت کو انٹرنیٹ بحالی کی ہدایت

سماعت کے دوران عدالت نے حکومت آزاد کشمیر کو زبانی احکامات جاری کرتے ہوئے 10 روز کے اندر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ امن و امان کی صورتحال ناسازگار ہونے والے علاقوں میں پابندی برقرار رکھنے کی گنجائش ہوگی۔

اس سے قبل 31 اگست کو وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کی ہدایت پر آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں مکمل جبکہ چار اضلاع میں جزوی طور پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔

جون سے انٹرنیٹ سروس کی بندش

آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس 5 جون کو راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ اور دھرنے کی کال کے بعد عائد پابندیوں کے باعث معطل کی گئی تھی۔

تقریباً 48 روز کی طویل بندش کے بعد انٹرنیٹ سروس پہلی مرتبہ جزوی طور پر بحال کی گئی، تاہم مظفرآباد میں ہڑتال اور تصادم کے بعد 25 جولائی کو سروس دوبارہ بند کردی گئی۔

31 اگست کو وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے پریس کلب مظفرآباد میں اپنی پہلی میڈیا ٹاک کے دوران انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد میرپور، نیلم اور حویلی میں ڈی ایس ایل انٹرنیٹ سروس بحال ہوگئی، تاہم مظفرآباد میں سروس تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی۔

طویل بندش سے شہری متاثر

انٹرنیٹ کی طویل بندش کے باعث آزاد کشمیر میں کاروباری سرگرمیاں اور سرکاری امور بری طرح متاثر ہوئے، جبکہ ہزاروں صارفین انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت سے محروم رہے۔

انٹرنیٹ بندش سے سب سے زیادہ طلبہ و طالبات متاثر ہوئے، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر انحصار کرنے والے تاجروں کو بھی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ فری لانسرز، سرکاری ملازمین اور دیگر پیشہ ور افراد کو بھی روزمرہ کے کام انجام دینے میں مشکلات پیش آئیں۔

انٹرنیٹ بندش کے بل معاف کرنے کا مطالبہ

دوسری جانب شہریوں اور فری لانسرز نے ہائی کورٹ کے 10 روز میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔

شہریوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور متعلقہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جن دنوں صارفین کو انٹرنیٹ سروس فراہم نہیں کی گئی، ان دنوں کے بل وصول نہ کیے جائیں۔

شہریوں کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی عدم دستیابی کے دوران صارفین کو مطلوبہ سہولت فراہم نہیں کی گئی اور کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں، اس لیے بندش کے عرصے کے انٹرنیٹ بل معاف کیے جائیں۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 10 ستمبر، 2026 کو 03:24 AM

آخری تدوین: 10 ستمبر، 2026

متعلقہ مضامین

طارق فضل چودھری کا افغان حکام سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کا مطالبہ
پاکستان

طارق فضل چودھری کا افغان حکام سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کا مطالبہ

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کریں اور سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف افغان حکام کے الزامات بے بنیاد ہیں اور اسلام آباد نے دہشت گردی سے متعلق شواہد افغان نمائندوں کے سامنے بھی رکھے ہیں

Web Desk26 اکتوبر، 2026
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے رابطہ، مذاکرات کے لیے علی امین گنڈاپور متحرک
تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے رابطہ، مذاکرات کے لیے علی امین گنڈاپور متحرک

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکراتی رابطے آگے بڑھانے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پارلیمانی پارٹی کی جانب سے دیے گئے اختیار کے تحت وفاقی حکومت کی مذاکراتی ٹیم میں شامل دو اہم وزرا سے رابطہ کیا ہے

Web Desk26 اکتوبر، 2026
تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی ایرانی قیادت سے اہم بات چیت آج متوقع
تازہ ترین

تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی ایرانی قیادت سے اہم بات چیت آج متوقع

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام آج 26 اکتوبر 2026 کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس رابطے میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی طرف سے انٹیلی جنس کے سربراہ کریں گے

Web Desk26 اکتوبر، 2026