صدرِ مملکت نے ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تقرری اور توثیق کی منظوری دے دی

صدر زرداری نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کرنے کی منظوری بھی دے دی، جبکہ ہائیکورٹ ججز کی رخصت، پنشن اور مراعات سے متعلق 1997 کے حکم میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی ہے
اسی موضوع سے پڑھیں
اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مختلف ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تقرری اور بعض ایڈیشنل ججز کی بطور مستقل ججز توثیق کی منظوری دے دی ہے۔
صدرِ مملکت نے لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دی۔
اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے بعض ایڈیشنل ججز کی بطور مستقل ججز توثیق بھی کردی گئی ہے۔ سمری کی منظوری کے بعد جلد ہی نئے مقرر ہونے والے ججز کی حلف برداری کی تقریب منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔
سپریم کورٹ ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں اہم فیصلہ
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔
صدر نے ہائیکورٹ ججز کی رخصت، پنشن اور مراعات سے متعلق 1997 کے حکم میں ترامیم کی منظوری بھی دی ہے۔
ہارون اختر وزیراعظم کے مشیر مقرر
دوسری جانب صدرِ مملکت نے ہارون اختر کو وزیراعظم کا مشیر برائے صنعت و پیداوار مقرر کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔
19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سفارش
یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے اجلاسوں میں مختلف ہائیکورٹس میں 19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سفارش کی گئی تھی۔
دونوں اجلاسوں میں 5 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے جبکہ ایک جج کی مدت میں توسیع کی بھی سفارش کی گئی تھی۔
ججز کی تقرری کی سمری پر دستخط نہ ہونے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر وفاق اور وزارتِ قانون سے جواب طلب کیا تھا۔
صدرِ مملکت کی جانب سے سمری پر دستخط اور ججز کی تقرری کی منظوری کے بعد اس معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ججز کی نامزدگی اور تقرری کا معاملہ حل ہونے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت درخواست کے اثرات بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
شائع ہوا: 11 اگست، 2026 کو 04:16 AM
آخری تدوین: 11 اگست، 2026



