وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی

W
Web Desk
16 ستمبر، 2026
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی
international seerat conference

عمران خان کی الشفا ہسپتال منتقلی کے کیس میں سپریم کورٹ نے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اٹارنی جنرل منصور اعوان سے معاونت طلب کرلی۔ جسٹس شاہد وحید نے سوال اٹھایا کہ وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرکے انہیں سماعت کے لیے کیسے مقرر کر سکتی ہے۔ عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کی عدم حاضری اور 18 اگست کے طبی سہولیات سے متعلق حکم پر بھی سوالات کیے۔ اٹارنی جنرل کی درخواست پر کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی الشفا ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار کے حوالے سے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے گزشتہ روز حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے، جس کے بعد انہوں نے عدالت کو حکم نامہ پڑھ کر سنایا۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرکے انہیں سماعت کے لیے کیسے مقرر کر سکتی ہے اور اٹارنی جنرل سے اس معاملے پر معاونت طلب کی۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت آئین کی تشریح کر سکتی ہے، جبکہ آئین کی تشریح کے علاوہ دیگر معاملات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں اور سوالات صرف آئینی صورتحال سمجھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

سماعت کے دوران عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر بھی گفتگو ہوئی۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ سرکاری افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کیے جانے کے باوجود کوئی پیش کیوں نہیں ہوا اور کیا یہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں؟

جسٹس شاہد وحید نے اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کرنے سے متعلق بھی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے ایک موقع دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے افسران نے سمجھا ہو کہ آج سماعت نہیں ہوگی۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپیل میں آئینی تشریح درکار نہیں تھی، جبکہ توہینِ عدالت کی درخواستوں میں بھی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرکے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا ہے، اس حکم کے کیا قانونی نتائج ہوں گے، اٹارنی جنرل اس نکتے پر عدالت کی معاونت کریں۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان نے درخواست کی کہ کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے موخر کردی جائے، جسے سپریم کورٹ نے منظور کرلیا۔ یوں عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

international seerat conference
شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 16 ستمبر، 2026 کو 01:39 PM

آخری تدوین: 16 ستمبر، 2026

متعلقہ مضامین