ٹرمپ کو ایک اور سیاسی چیلنج، امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور کرلی


امریکی ایوان نمائندگان نے 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے ایران جنگ ختم کرنے اور امریکی افواج کو جنگی کارروائیوں سے نکالنے کی قرارداد منظور کرلی، 7 ریپبلکن ارکان نے بھی حمایت کی
واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے اور امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کی قرارداد ایک بار پھر منظور کرلی ہے۔ یہ ایران جنگ کے حوالے سے ایوان نمائندگان کی جانب سے جنگی اختیارات محدود کرنے کی تیسری کوشش ہے۔
15 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ میں قرارداد 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ 7 ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد میں صدر ٹرمپ سے ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم امریکی اور اتحادی اڈوں کے دفاع کے لیے بعض فوجیوں کی موجودگی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں ایران جنگ کی مدت، اس کے مالی اخراجات اور فوجی وسائل پر دباؤ سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔ اس سے قبل جون اور جولائی میں بھی ایوان نمائندگان میں جنگی اختیارات محدود کرنے سے متعلق قراردادیں منظور ہوچکی ہیں۔ جولائی میں ایوان کی قرارداد 214-208 ووٹوں سے منظور ہوئی تھی، تاہم سینیٹ میں اسی نوعیت کی ایک علیحدہ قرارداد آگے نہیں بڑھ سکی۔
ایران جنگ پر 38 ارب ڈالر سے زائد اخراجات
کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) کے مطابق یکم اگست 2026 تک ایران جنگ کے باعث امریکی محکمہ دفاع کے براہِ راست اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ CBO نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر موجودہ سطح کی کشیدگی جاری رہی تو جنگ پر مزید 2 سے 3 ارب ڈالر ماہانہ خرچ ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے اخراجات میں استعمال ہونے والے اسلحے اور گولہ بارود کی جگہ دوبارہ ذخائر کی تیاری، فوجی سازوسامان کے نقصانات، ایندھن اور اضافی فوجی اخراجات شامل ہیں۔ CBO نے یہ بھی کہا ہے کہ تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
قرارداد کا اگلا مرحلہ
ایوان نمائندگان سے منظوری کے باوجود قرارداد کا منظور ہونا فوری طور پر امریکی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے مترادف نہیں۔ اس کے لیے مزید پارلیمانی اور قانونی مراحل درکار ہیں، جبکہ ماضی میں ایسی قراردادوں کو سینیٹ اور انتظامیہ کی سطح پر رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔
یوں ایران جنگ کے معاملے پر امریکی کانگریس اور صدر ٹرمپ کے درمیان اختیارات، جنگ کے تسلسل اور اس کے بڑھتے ہوئے مالی اخراجات پر اختلاف ایک بار پھر نمایاں ہوگیا ہے۔

شائع ہوا: 16 ستمبر، 2026 کو 05:43 AM
آخری تدوین: 16 ستمبر، 2026



