متنازع اسپورٹس اشتہار پر سڈنی سوینی کو تنقید، انسٹاگرام فالوورز میں 2 لاکھ سے زائد کمی


اداکارہ سڈنی سوینی کی نووگ کی ’جسٹ اسپورٹس‘ مہم پر خواتین کھلاڑیوں نے اعتراض اٹھایا، جبکہ سوشل میڈیا ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ان کے انسٹاگرام فالوورز میں 2 لاکھ سے زائد کمی رپورٹ ہوئی
لاس اینجلس: ہالی ووڈ اداکارہ سڈنی سوینی کو اسپورٹس پریڈکشن کمپنی نووگ کی نئی اشتہاری مہم کے باعث سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ سوشل میڈیا ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق مہم کے بعد ان کے انسٹاگرام فالوور سمیت مختلف کھیلوں کے سامان کے ساتھ بولڈ انداز میں دکھایا گیا۔ ایک منظر میں اداکارہ باسکٹ بال رنگ پر بیٹھی دکھائی دیتی ہیں،ز میں 2 لاکھ سے زائد کمی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔
نووگ کی ’جسٹ اسپورٹس‘ کے نام سے شروع کی گئی مہم میں سڈنی سوینی کو باسکٹ بال، فٹبال اور ٹینس سمیت مختلف کھیلوں کے سامان کے ساتھ بولڈ انداز میں دکھایا گیا۔ ایک منظر میں اداکارہ باسکٹ بال رنگ پر بیٹھی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ اشتہار کے اختتام پر ان کا ایک جملہ بھی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا۔
مہم پر متعدد خواتین کھلاڑیوں نے اعتراض کرتے ہوئے اسے کھیلوں میں خواتین کی غیر ضروری جنسی نمائندگی قرار دیا۔
چار بار کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ تیراک آریانے ٹِٹس نے سوال اٹھایا کہ کھیلوں سے متعلق مصنوعات کی تشہیر کے لیے خواتین کے جسم کو اب بھی جنسی انداز میں کیوں پیش کیا جاتا ہے۔ امریکی جمناسٹ گریسی کریمر نے اپنی کھیلوں کی ویڈیو کے ساتھ پیغام دیا کہ یہ کھیلوں میں ایک خاتون کی حقیقی تصویر ہے۔
برطانوی ایتھلیٹ ایمی ہنٹ نے کھیلوں کی حقیقت کو محنت، پسینے، خون اور آنسوؤں سے تعبیر کیا، جبکہ ورلڈ چیمپئن باکسر اسکائی نکولسن کا کہنا تھا کہ کسی خاتون کا اپنی خوبصورتی اور نسوانیت کو قبول کرنا غلط نہیں، تاہم کھیلوں سے متعلق مصنوعات فروخت کرنے کے لیے جنسی کشش کو استعمال کرنا ایک مختلف معاملہ ہے۔
آسٹریلوی کھلاڑی ٹِلی کیرنز اور لینی پیلیسٹر سمیت دیگر ایتھلیٹس نے بھی اشتہاری مہم پر اعتراض کیا۔
سڈنی سوینی کا مؤقف
سڈنی سوینی نے مہم پر معذرت کرنے کے بجائے ماضی کی مثالیں پیش کیں۔ ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ESPN Body Issue میں سرینا ولیمز اور رونڈا روزی سمیت متعدد ایتھلیٹس ماضی میں نیم عریاں یا برہنہ انداز میں پوز دے چکی ہیں۔
تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ دونوں مہمات میں بنیادی فرق موجود ہے۔ ان کے مطابق ESPN میں ایتھلیٹس کے جسم کو ان کی کھیلوں کی کارکردگی کے تناظر میں پیش کیا گیا، جبکہ نووگ کی مہم میں سڈنی سوینی کو اسپورٹس پریڈکشن پراڈکٹ کی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا۔
سڈنی سوینی نووگ کی صرف برانڈ ایمبیسیڈر نہیں بلکہ کمپنی کی اسٹریٹجک پارٹنر اور ایکویٹی ہولڈر بھی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کمپنی میں ان کا مالی مفاد بھی موجود ہے۔ نووگ کے مطابق شراکت داری کی تجویز خود سڈنی سوینی کی جانب سے دی گئی تھی۔
فالوورز میں کمی کی وجہ؟
سوشل میڈیا ٹریکنگ سروسز کے مطابق سڈنی سوینی کے انسٹاگرام فالوورز میں 2 لاکھ سے زائد کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ تاہم یہ ڈیٹا اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ تمام ان فالو اسی اشتہار کے ردعمل میں ہوئے۔
فالوورز میں کمی کا وقت البتہ اس مہم پر بڑھتی ہوئی تنقید کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، جس کے باعث اشتہار کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔
یہ سڈنی سوینی کا پہلا اشتہاری تنازع بھی نہیں۔ 2025 میں امریکن ایگل کی ’Sydney Sweeney Has Great Jeans‘ مہم بھی تنقید کی زد میں آئی تھی۔ اس مہم میں ’jeans‘ اور ’genes‘ سے ملتے جلتے الفاظ کے استعمال کے باعث بعض حلقوں نے نسل اور جینیات سے متعلق مفاہیم اخذ کیے تھے۔
سڈنی سوینی نے بعد میں کہا تھا کہ وہ اس ردعمل سے حیران ہوئی تھیں۔ تاہم امریکن ایگل نے مہم کے بعد نئے صارفین اور برانڈ آگاہی میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا اور اداکارہ کے ساتھ اپنی شراکت داری جاری رکھی۔
نووگ کی تازہ مہم کے بارے میں بھی یہ رائے سامنے آئی ہے کہ شدید ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث نے کمپنی اور اشتہار کو غیر معمولی توجہ ضرور دلائی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ موجودہ تنازع کے طویل مدتی تجارتی اثرات کیا ہوں گے۔

شائع ہوا: 16 ستمبر، 2026 کو 05:27 AM
آخری تدوین: 16 ستمبر، 2026



