وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، 27 ویں ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت اور عدالت عظمیٰ کے دائرۂ اختیار کی وضاحت کر دی

W
Web Desk
6 مئی، 2026
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، 27 ویں ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت اور عدالت عظمیٰ کے دائرۂ اختیار کی وضاحت کر دی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اہم فیصلہ سناتے ہوئے آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو واضح کر دیا، دونوں عدالتوں کو ہم پلہ قرار دے دیا۔

(اسلام آباد) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک اہم اور تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت اور عدالت عظمیٰ کے دائرۂ اختیار کی واضح تشریح کر دی ہے۔

فیصلہ چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ ہم پلہ عدالتیں ہیں۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے قانونی اصولوں کے حوالے سے دیگر عدالتوں پر لازم ہوں گے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کا آرٹیکل 189 کسی ایک عدالت کو دوسری کے ماتحت نہیں بناتا۔ مزید کہا گیا کہ آئینی اور غیر آئینی مقدمات کو ایک ساتھ چلانے سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے ایسے مقدمات کو الگ الگ فورمز پر بھیجا جائے گا۔

فیصلے کے مطابق آئینی نوعیت کے مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے جبکہ عام اور ریگولر نوعیت کے مقدمات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں رہیں گے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ متضاد فیصلوں سے بچنے کے لیے دونوں عدالتیں ایک دوسرے کے دائرہ اختیار کا احترام کریں گی۔

مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر آئینی درخواستوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائیں گی جبکہ عام سول اپیلوں کا اختیار بدستور سپریم کورٹ کے پاس رہے گا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے آئینی فیصلوں کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل تصور ہوں گی، جبکہ کرایہ داری اور بعض خاندانی معاملات اس کے دائرہ اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے مشترکہ فیصلے سے متعلق مقدمات ڈی کلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ سول نوعیت کی اپیلیں سپریم کورٹ میں ہی زیر سماعت رہیں گی جبکہ آئینی نوعیت کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کی جائیں۔

اس کے علاوہ عدالت نے قرار دیا کہ توہین عدالت کے مقدمات وہی عدالت سنے گی جس کے احکامات کی خلاف ورزی ہوئی ہو، اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی سے متعلق کارروائی بھی سپریم کورٹ میں ہی چلائی جائے گی کیونکہ یہ اختیار عدالت کے وقار اور عملداری سے جڑا ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 6 مئی، 2026 کو 06:47 AM

آخری تدوین: 6 مئی، 2026

متعلقہ مضامین

ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا
تازہ ترین

ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا

ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا۔ محسن رضائی نے پاکستان اور ایران کو تزویراتی معاون قرار دیتے ہوئے مسلم ممالک کے اتحاد پر زور دیا، جبکہ محسن نقوی نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ چند ماہ میں مزید مضبوط ہوئے ہیں

Web Desk13 اگست، 2026
مال روڈ فائرنگ: سیکیورٹی اہلکار پر حملہ کرنے والا ملزم ہلاک، اہم شواہد سامنے آگئے
پاکستان

مال روڈ فائرنگ: سیکیورٹی اہلکار پر حملہ کرنے والا ملزم ہلاک، اہم شواہد سامنے آگئے

راولپنڈی کے مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کرنے والا ملزم محمد حسین جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگیا، جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ملزم کا تعلق ضلع خیبر سے تھا اور وہ پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن تھا۔ ملزم کے قبضے سے مبینہ طور پر پارٹی پرچم، اسلحہ، گولیاں اور اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس کے مطابق موبائل فون اور دیگر سامان سے مزید شواہد اور روابط سامنے آئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں

Web Desk12 اگست، 2026
27 ستمبر سے پہلے آنکھیں کھول لیں، ورنہ حالات سنبھالنا مشکل ہوگا: سہیل آفریدی
پاکستان

27 ستمبر سے پہلے آنکھیں کھول لیں، ورنہ حالات سنبھالنا مشکل ہوگا: سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کو 27 ستمبر سے پہلے انصاف، آئین اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تاخیر سے حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں

Web Desk12 اگست، 2026