صدر ٹرمپ کا ایران سے متعلق نیا دعویٰ، گندم، سویابین اور مکئی کی فروخت کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زراعت سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایرانی منڈی سمیت نئی عالمی مارکیٹیں کھول رہا ہے۔ انہوں نے ایران کی غذائی ضروریات اور جوہری پروگرام پر بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کیا
(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زراعت سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اپنے کسانوں کے لیے دنیا بھر میں نئی منڈیاں کھول رہا ہے، جن میں ایران بھی شامل ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ امریکی زرعی مصنوعات کے لیے نئی عالمی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران ایک اہم منڈی بن سکتا ہے کیونکہ وہاں غذائی اجناس کی شدید ضرورت پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو خوراک کے شعبے میں مشکلات کا سامنا ہے اور امریکا توقع رکھتا ہے کہ ایران اپنی مالی وسائل گندم، سویابین اور مکئی جیسی زرعی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوئے تو وہ انہیں فوری طور پر استعمال کر سکتا ہے، اسی لیے اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات، علاقائی سلامتی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 26 جون، 2026 کو 04:47 AM
آخری تدوین: 26 جون، 2026



