ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، "مجھے قتل کرنے کی کوشش ہوئی تو ایران مکمل تباہ کر دیا جائے گا"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی تو امریکا ایران کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ نے ایران، میزائل حملوں، اسرائیلی انٹیلی جنس دعوؤں، امریکا ایران مذاکرات اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیان پر بھی اظہار خیال کیا۔
واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے انہیں قتل کرنے یا قتل کی کوشش کی تو امریکا فوری، فیصلہ کن اور بھرپور فوجی کارروائی کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو ہدف بنانے کے لیے ایک ہزار میزائل تیار رکھے ہیں، اور اگر ان پر حملہ یا قتل کی کوشش کی گئی تو مزید ہزاروں میزائل داغے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کو پہلے ہی ایسے احکامات دیے جا چکے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ ایرانی حملے کی صورت میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا ہر قسم کی فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار، بااختیار اور صلاحیت رکھتا ہے، اور ایران کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب نیویارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے ممکنہ قتل کی صورت میں پہلے سے مخصوص ہدایات چھوڑ رکھی ہیں۔ ان کے بقول اگر ان پر حملہ ہوا تو ایران کو ایسی بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ طویل عرصے سے ایران کی مبینہ "ہٹ لسٹ" پر ہیں اور تہران برسوں سے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادھر اسرائیل نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ اسے امریکی صدر کے خلاف مبینہ ایرانی سازش سے متعلق انٹیلی جنس معلومات ملی ہیں، تاہم ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا کوئی نیا منصوبہ سامنے نہیں آیا اور یہ خطرہ پہلے سے موجود ہے۔
دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے متوقع ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدے پورے کیے، لیکن امریکا اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 11 جولائی، 2026 کو 05:22 AM
آخری تدوین: 11 جولائی، 2026



