برطانیہ نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں تاخیر کی، اینڈی برنہم کا اعتراف

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما اینڈی برنہم نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے لیبر پارٹی کی ابتدائی غزہ پالیسی پر معذرت کرتے ہوئے غزہ میں تشدد سے متعلق مزید پابندیوں اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر تجارتی پابندی کا عندیہ دیا
برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما اینڈی برنہم نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں برطانیہ نے تاخیر کی، جبکہ لیبر پارٹی کا ابتدائی مؤقف بھی درست نہیں تھا۔
ایک بیان میں اینڈی برنہم نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران سامنے آنے والے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور جنگی جرائم سے متعلق شواہد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے غزہ سے متعلق لیبر پارٹی کی ابتدائی پالیسی پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آئی تو وہ زیادہ مؤثر اور واضح اقدامات کرے گی تاکہ انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
اینڈی برنہم نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں تشدد میں ملوث افراد کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات پر تجارتی پابندی عائد کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال پر عالمی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور متعدد ممالک جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 10 جولائی، 2026 کو 04:26 AM
آخری تدوین: 10 جولائی، 2026



