حملوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری، تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز

حملوں اور فوجی کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک تکنیکی سطح پر رابطے میں ہیں اور تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی گئی ہیں
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور حملوں کے تبادلے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور مذاکراتی عمل جاری ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ تنازع کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تکنیکی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی برقرار ہے، تاہم سفارتی ذرائع کے ذریعے رابطے ختم نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مقصد ایسے قابلِ قبول حل تک پہنچنا ہے جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے رابطے میں ہیں اور تکنیکی سطح پر ہونے والی بات چیت مستقبل میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ تاہم تازہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک فوجی تناؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ تنازع کے پرامن حل کی کوششیں جاری رہ سکیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 10 جولائی، 2026 کو 03:36 AM
آخری تدوین: 10 جولائی، 2026



