پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 24 ارب ڈالر کے قریب، اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 1.94 ارب ڈالر کا بڑا اضافہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملکی مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 23.99 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ایک ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 1.94 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بیرونی رقوم کی آمد سے پاکستان کی مالیاتی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر کی سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں، جبکہ ایک ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے ذخائر میں تقریباً 2 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 3 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے اختتام پر ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب 98 کروڑ 87 لاکھ ڈالر رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب 47 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 51 کروڑ 77 لاکھ ڈالر کے خالص زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق 3 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 1 ارب 94 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد سرکاری ذخائر 18.47 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والا یہ نمایاں اضافہ حکومتِ پاکستان کو موصول ہونے والی بیرونی رقوم کے باعث ممکن ہوا، جس سے ملک کی مالیاتی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، روپے پر دباؤ کم ہونے میں مدد ملتی ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا ہے اور مجموعی اقتصادی استحکام کو تقویت ملتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ اعداد و شمار پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہیں اور مستقبل میں مالیاتی استحکام کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت تصور کیے جا رہے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 10 جولائی، 2026 کو 03:55 AM
آخری تدوین: 10 جولائی، 2026



