پابندیاں جاری رہیں تو ایران میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے: صدر مسعود پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ پابندیاں جاری رہنے کی صورت میں ایران میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ ایرانی برآمدات میں 25 سے 35 فیصد کمی کا دعویٰ کیا ہے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر عائد پابندیاں جاری رہیں تو ملک میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے اور معیشت کو اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر نے ان افراد پر طنزیہ ردعمل دیا جو ایران کی معیشت پر پابندیوں کے اثرات سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں کے اثرات واضح ہیں اور معیشت کو سمجھنے والے افراد ان کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔
ایرانی برآمدات میں 25 سے 35 فیصد کمی
مسعود پزشکیان کے مطابق پابندیوں کے باعث ایرانی برآمدات میں 25 سے 35 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ درآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے بلکہ درآمدات میں کمی برآمدات کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال پر پابندیوں کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پابندیوں کے تسلسل سے ایرانی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران جنگ نہیں چاہتا: ایرانی صدر
اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے واضح کیا تھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی طاقت کے لیے ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ممکن نہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی اور نہ ہی وہ جنگ کا خواہاں ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کا قیام ایران کی ترجیحات میں شامل ہے۔
خطے میں امن و استحکام پر زور
ایرانی صدر نے عالمی امن کے لیے خطے میں استحکام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی امن اور استحکام کا آغاز خطے سے ہونا چاہیے۔
ان کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کو معاشی پابندیوں کے ساتھ ساتھ خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور عسکری کشیدگی کا بھی سامنا ہے۔
شائع ہوا: 31 اگست، 2026 کو 03:12 AM
آخری تدوین: 31 اگست، 2026



