اسرائیلی انٹیلیجنس نے ایرانی جوہری پروگرام پر نیتن یاہو کے دعوے کو مسترد کر دیا

اسرائیلی میڈیا کے مطابق موساد اور فوجی انٹیلیجنس نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل تباہی کے دعوے کی توثیق سے انکار کر دیا، جس کے بعد حکومتی مؤقف پر اختلافات سامنے آ گئے
(تل ابیب) اسرائیلی انٹیلیجنس اداروں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دعوے کی توثیق سے انکار کرتے ہوئے اسے دستیاب شواہد سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب موساد اور اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس سمیت متعلقہ سیکیورٹی اداروں نے ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل تباہی کے دعوے کی حمایت کرنے سے گریز کیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم آفس نے انٹیلیجنس اداروں سے سرکاری مؤقف کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم حکام نے پیشہ ورانہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے غیر مصدقہ دعوے کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق انٹیلیجنس اداروں نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل تباہی سے متعلق دعویٰ موجودہ شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم آفس، موساد اور فوجی انٹیلیجنس کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کی بھی توثیق چاہتے تھے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، تاہم اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نے اس دعوے کی بھی تصدیق نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور حجم کے بارے میں اب تک کوئی حتمی اور مستند شواہد سامنے نہیں آئے، جس کے باعث اس حوالے سے مختلف دعوؤں پر سوالات برقرار ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 6 جولائی، 2026 کو 03:53 AM
آخری تدوین: 6 جولائی، 2026



