کینیا نے بھارتی کمپنی ٹاٹا کیمیکل کو کام سے روک دیا، صدر ولیم روٹو کا بڑا فیصلہ

کینیا کے صدر ولیم روٹو نے بھارتی کمپنی ٹاٹا کیمیکل کو جھیل ماگادی سے قدرتی وسائل نکالنے کے کام سے روکنے کا اعلان کردیا، نئی کمپنیوں کو موقع دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے
نیروبی: کینیا کے صدر ولیم روٹو نے بھارتی کیمیکل کمپنی ٹاٹا کیمیکل کو ملک میں کام کرنے سے روکنے کا اعلان کردیا۔
ولیم روٹو کے مطابق کمپنی کئی دہائیوں سے کینیا کی جھیل ماگادی سے قدرتی وسائل نکال رہی ہے، تاہم اس عرصے کے دوران مقامی صنعتوں میں مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کی گئی اور علاقے کی عوام کو بھی خاطر خواہ معاشی فوائد حاصل نہیں ہوسکے۔
مقامی صنعت اور روزگار پر توجہ
کینیا کے صدر نے کہا کہ بھارتی کمپنی مقامی معدنی وسائل سے فائدہ اٹھاتی رہی، لیکن علاقے میں اب تک کوئی نمایاں صنعتی تنصیب یا کارخانہ قائم نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کی سرگرمیوں کے باوجود مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع بھی توقعات کے مطابق پیدا نہیں ہوئے، جس کے باعث حکومت نے سخت فیصلہ کیا ہے۔
ولیم روٹو نے واضح کیا کہ ملک کے قدرتی وسائل کا استعمال مقامی آبادی اور ملکی معیشت کے مفاد میں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دے گی جس سے مقامی صنعت کو فروغ، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور عوام کو براہ راست معاشی فائدہ حاصل ہو۔
دو نئی کمپنیوں کو کام کا موقع دینے کا اعلان
کینیا کے صدر نے ٹاٹا کیمیکل کی جگہ دو نئی کمپنیوں کو کام کا موقع دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ان کے مطابق نئی کمپنیوں سے توقع کی جائے گی کہ وہ کینیا کے قدرتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مقامی سطح پر صنعتی یونٹس قائم کریں گی اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گی۔
کینیا حکومت کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل سے متعلق پالیسی میں مقامی معیشت، صنعتی ترقی اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔
شائع ہوا: 4 ستمبر، 2026 کو 04:21 AM
آخری تدوین: 4 ستمبر، 2026



