انڈیانا میں خالصتان ریفرنڈم: خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت
شہلا نعیم
انڈیاناپولس میں خالصتان ریفرنڈم کے دوران سکھ خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ خواتین ووٹرز نے سکھ برادری کے سیاسی مستقبل، حقِ خود ارادیت اور پنجاب کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا
امریکی ریاست انڈیانا کے شہر انڈیاناپولس میں خالصتان ریفرنڈم کے دوران سکھ خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ ووٹنگ سینٹر پر خواتین سکھ ووٹرز مردوں کے ساتھ قطاروں میں کھڑی نظر آئیں اور ریفرنڈم میں اپنا ووٹ استعمال کیا۔
خواتین ووٹرز کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم میں ان کی شرکت سکھ برادری کے سیاسی مستقبل اور حقِ خود ارادیت کے حوالے سے ان کے مؤقف کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق سکھ خواتین بھی اپنے حقوق اور پنجاب کے مستقبل کے بارے میں اپنی رائے دینے کو اہم سمجھتی ہیں۔

خواتین ووٹرز نے بھارتی حکومت پر سکھ برادری کے خلاف امتیازی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کے دور میں بھارتی پنجاب میں سکھ برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔

شرکاء نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارتی پنجاب میں غیر پنجابی آبادی کو آباد کرکے خطے کی آبادیاتی صورتحال تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے وہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں مبینہ تبدیلی کی کوششوں سے تشبیہ دیتی ہیں۔

خواتین ووٹرز کے مطابق خالصتان ریفرنڈم ان کے لیے محض ووٹنگ کا عمل نہیں بلکہ سکھ برادری کے سیاسی اور جمہوری حقوق کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھ خواتین بھی اس مہم میں مردوں کے برابر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

شہلا نعیم
شہلا نعیم وائسز آف امریکا کیلئے واشنگٹن ڈی سی میں سینئر پروڈیوسر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہی ہیں
شائع ہوا: 16 اگست، 2026 کو 06:15 PM
آخری تدوین: 16 اگست، 2026



