وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

لاہور کاہنہ ٹیوشن سینٹر چھت گرنے کا المناک حادثہ: 14 بچے جاں بحق، 6 زخمی، ریسکیو آپریشن مکمل

W
Web Desk
30 جون، 2026
لاہور کاہنہ ٹیوشن سینٹر چھت گرنے کا المناک حادثہ: 14 بچے جاں بحق، 6 زخمی، ریسکیو آپریشن مکمل

لاہور کے علاقے کاہنہ میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق اور 6 زخمی ہوگئے۔ ریسکیو آپریشن مکمل، متعدد افراد زیر حراست، وزیراعلیٰ پنجاب نے رپورٹ طلب کر لی

لاہور: لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے پیش آنے والے دلخراش حادثے میں 14 معصوم بچے جاں بحق جبکہ 6 بچے زخمی ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور تمام متاثرہ بچوں کو ملبے سے نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع شام 4 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ حادثے کے وقت ایک خاتون ٹیچر سمیت تقریباً 20 سے 25 افراد ٹیوشن سینٹر میں موجود تھے، جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اسی عمارت میں صبح کے وقت اسکول بھی چلایا جاتا تھا۔

پولیس کے مطابق عمارت کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا جبکہ گراؤنڈ فلور پر بچے ٹیوشن حاصل کر رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ چھت پہلے سے کمزور تھی اور حالیہ بارشوں کے باعث اس کی حالت مزید خراب ہو گئی تھی۔ واقعے کے بعد گھر کے مالک سمیت پانچ افراد کو تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بتایا کہ چھت گارڈر اور مٹی سے بنی ہوئی تھی، جو بارشوں کے باعث کمزور ہو چکی تھی، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

ٹی ایچ کیو ہسپتال کاہنہ کے مطابق زخمی ہونے والے 6 بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی، جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور متعلقہ حکام کو ذمہ داروں کے تعین اور زخمیوں کو بہترین علاج کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ یہ ایک نجی رہائشی مکان میں قائم ٹیوشن سینٹر تھا، اس لیے حکومتی نگرانی محدود تھی، تاہم حکومت نے فوری طور پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں شروع کیں اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

ریسکیو ترجمان کے مطابق آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور متاثرہ علاقے کو کلیئر کر دیا گیا ہے، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 30 جون، 2026 کو 03:59 PM

آخری تدوین: 30 جون، 2026

متعلقہ مضامین

افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ضروری، عسکریت پسندانہ ذہنیت مسائل کی بڑی وجہ ہے: عطا تارڑ
تازہ ترین

افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ضروری، عسکریت پسندانہ ذہنیت مسائل کی بڑی وجہ ہے: عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عسکریت پسندانہ ذہنیت افغانستان کے مسائل کی بڑی وجہ ہے، افغان عوام کو بنیادی حقوق اور اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار ملنا چاہیے۔ عطا تارڑ نے افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات، امن اور علاقائی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا

Web Desk29 ستمبر، 2026
شوکت یوسفزئی کا پارٹی قیادت کو خط، لانگ مارچ فوری ملتوی کرنے کی اپیل
تازہ ترین

شوکت یوسفزئی کا پارٹی قیادت کو خط، لانگ مارچ فوری ملتوی کرنے کی اپیل

پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر قیادت کو خط لکھ کر لانگ مارچ فوری ملتوی کرنے کی درخواست کردی۔ خط میں بیرونی خطرات، دہشتگردی میں اضافے، ایمرجنسی کے خدشے اور خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف ممکنہ اقدامات کا ذکر کیا گیا۔ شوکت یوسفزئی نے ریاست سے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر زور دیا

Web Desk29 ستمبر، 2026
’ہر نامناسب رویہ جنسی ہراسانی نہیں‘، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
پاکستان

’ہر نامناسب رویہ جنسی ہراسانی نہیں‘، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت کا جنسی ہراسانی کیس میں اہم فیصلہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا 31 دسمبر 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صدرِ مملکت کا حکم بحال کردیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہر نامناسب رویہ جنسی ہراسانی نہیں، ہراسانی قانون کے تحت کارروائی کے لیے جنسی عنصر ضروری ہے

Web Desk29 ستمبر، 2026