مال روڈ فائرنگ: سیکیورٹی اہلکار پر حملہ کرنے والا ملزم ہلاک، اہم شواہد سامنے آگئے

راولپنڈی کے مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کرنے والا ملزم محمد حسین جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگیا، جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ملزم کا تعلق ضلع خیبر سے تھا اور وہ پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن تھا۔ ملزم کے قبضے سے مبینہ طور پر پارٹی پرچم، اسلحہ، گولیاں اور اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس کے مطابق موبائل فون اور دیگر سامان سے مزید شواہد اور روابط سامنے آئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں
اسی موضوع سے پڑھیں
راولپنڈی: مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کرنے والا شخص جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگیا، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوا۔ پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ضلع خیبر کے رہائشی محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے، جس کے بارے میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن تھا۔ ذرائع کے مطابق ملزم کے قبضے سے مبینہ طور پر پارٹی پرچم، اسلحہ، گولیاں اور اہم دستاویزات برآمد کی گئی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر ملزم کے سیاسی روابط اور مبینہ سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ محمد حسین بعض احتجاجی دھرنوں کے دوران اشتعال انگیزی، پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات میں بھی ملوث رہا، تاہم ان دعوؤں کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعہ 11 اگست 2026 کو صبح 11 بج کر 15 منٹ پر مال روڈ پر پیش آیا۔ پولیس کے مطابق محمد حسین ولد محمد باذ نے پستول سے سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔
پولیس کے مطابق اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور دیگر سامان سے مزید شواہد اور اس کے روابط سے متعلق معلومات سامنے آئی ہیں، جن کی بنیاد پر تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی اور انتشار انگیزی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے مال روڈ فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی پر تشدد کی سیاست کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کا کوئی جواز نہیں اور واقعے نے احتجاجی سیاست کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ ماضی کے بعض احتجاجی مظاہروں میں بھی سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا اور بعض مواقع پر مظاہرین اسلحے سے لیس ہو کر آئے۔ ان کے مطابق مال روڈ کے واقعے میں ملزم سے پی ٹی آئی کا جھنڈا اور دیگر دستاویزات ملنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے احتجاجوں کا مقصد ملک میں انتشار اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کی کال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو عالمی سطح پر کامیابیاں ملنے کے مواقع پر احتجاج کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ترقی کی جانب گامزن رہے گا اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں، ملزم کے سیاسی روابط، مبینہ برآمد شدہ شواہد اور فائرنگ کے محرکات کا حتمی تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
شائع ہوا: 12 اگست، 2026 کو 04:07 AM
آخری تدوین: 12 اگست، 2026



