وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کی منظوری دے دی، توانائی تعاون کا نیا دور شروع ہونے کا امکان

W
Web Desk
22 جولائی، 2026
ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کی منظوری دے دی، توانائی تعاون کا نیا دور شروع ہونے کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کی منظوری دے دی۔ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سول ایٹمی منصوبوں میں تعاون کریں گی، جبکہ کانگریس کی حتمی منظوری کے بعد توانائی، سرمایہ کاری اور امریکا سعودی تعلقات میں اہم پیش رفت متوقع ہے

(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کے ایک اہم معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان توانائی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں طویل المدتی شراکت داری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد سعودی عرب کو سول ایٹمی توانائی کے شعبے میں جدید امریکی ٹیکنالوجی، تکنیکی معاونت اور مہارت فراہم کرنا ہے تاکہ مملکت اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ خام تیل پر انحصار بھی کم کر سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں سول جوہری بجلی گھروں کی تعمیر، انجینئرنگ خدمات، جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی، تربیت اور تکنیکی معاونت میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس تعاون سے سعودی عرب کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، متبادل توانائی کے ذرائع کا فروغ اور ویژن 2030 کے تحت جاری اقتصادی اصلاحات کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی قانون کے تحت اس معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے کانگریس کے سامنے پیش کیا جائے گا، جہاں ارکان اس کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ کانگریس کو معاہدے کی منظوری دینے یا اس پر اعتراضات اٹھانے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔

سعودی عرب گزشتہ کئی برسوں سے پرامن مقاصد کے لیے سول جوہری پروگرام کے قیام کی کوشش کر رہا ہے اور توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس کا مقصد مستقبل کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کرنا، معیشت کو متنوع بنانا اور خام تیل پر انحصار میں کمی لانا ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں بین الاقوامی ایٹمی ضوابط، حفاظتی اقدامات اور عدم پھیلاؤ کے اصولوں کو مکمل طور پر مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ یہ پروگرام صرف پرامن اور سول مقاصد تک محدود رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی کانگریس اس معاہدے کی حتمی منظوری دے دیتی ہے تو یہ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں توانائی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 22 جولائی، 2026 کو 07:30 AM

آخری تدوین: 22 جولائی، 2026

متعلقہ مضامین

کرسٹیانو رونالڈو پر 30 روزہ پابندی عائد، 255 یورو جرمانہ بھی ہوگیا
تازہ ترین

کرسٹیانو رونالڈو پر 30 روزہ پابندی عائد، 255 یورو جرمانہ بھی ہوگیا

پرتگال فٹبال فیڈریشن نے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو پر قومی ٹیم کا کیمپ چھوڑنے اور کوچ سے اختلافات کے معاملے پر 30 روزہ پابندی عائد کر دی۔ رونالڈو کو 255 یورو جرمانے کا بھی سامنا ہے

Web Desk20 اکتوبر، 2026
دہشتگردی کے خلاف وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے لیے تیار، رانا ثنا اللہ کی اپوزیشن کو دعوت
تازہ ترین

دہشتگردی کے خلاف وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے لیے تیار، رانا ثنا اللہ کی اپوزیشن کو دعوت

رانا ثنا اللہ نے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو وزیراعظم شہباز شریف سے مذاکرات کی دعوت دے دی۔ محمود اچکزئی، ایپکس کمیٹی اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق اہم بیان بھی سامنے آگیا

Web Desk20 اکتوبر، 2026
پاکستان امریکا تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں اہم پیش رفت، پاکستانی مصنوعات کی امریکی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر اتفاق
تازہ ترین

پاکستان امریکا تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں اہم پیش رفت، پاکستانی مصنوعات کی امریکی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ جام کمال خان اور امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کی ملاقات میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی امریکی منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا

Web Desk20 اکتوبر، 2026