نئے انتظامی یونٹس بنانے کا فیصلہ حکومت یا کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ عوام کا ہونا چاہیے

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کوئی فردِ واحد یا سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس کو نہیں روک سکتی۔ محسن نقوی نے نئے صوبوں کے قیام پر قومی اتفاقِ رائے، عوام کی رائے اور بہتر حکمرانی کو ضروری قرار دیا
لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کوئی فردِ واحد یا سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو نہیں روک سکتی، انتظامی یونٹس بنانے کا فیصلہ عوام کی رائے اور قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔
لاہور میں قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں بہتری آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جانی چاہیے اور عوام کی مرضی کا احترام ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس کے حق میں ہیں تو انہیں ہر صورت بننا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے تقریباً ایک ماہ قبل نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کی بات کی تھی، تاہم ان کی گفتگو کا اشارہ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا موجودہ حکومت کی طرف نہیں تھا۔ ان کے مطابق ری سیٹ کا مطلب نظام توڑنا نہیں بلکہ غلط چیزوں کو درست کرنا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمپنی بہتر انداز میں کام نہ کر رہی ہو تو بہتری کے لیے سب لوگ مل بیٹھتے ہیں، اسی طرح 79 سال بعد بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر نظام کو ری اسٹرکچر کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی ضروریات ہر شہری تک پہنچانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج پانچویں جماعت کا بچہ عام جملے بھی پڑھنے سے قاصر ہے، لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو صاف پانی میسر نہیں جبکہ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں۔ نوجوان روزگار اور بہتر مواقع کا مطالبہ کر رہا ہے، اس لیے نظامِ حکمرانی کو عوام کے قریب لانا ہوگا۔
وزیر داخلہ نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کو این ایف سی کا ایک روپیہ بھی نہیں مل رہا جبکہ سی ڈی اے اپنی زمینیں فروخت کرکے شہر کا نظام چلا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اسلام آباد کے شہری پاکستان کے عوام نہیں ہیں؟
محسن نقوی نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر جذباتی ہونے کے بجائے عوام کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جو کل یا پرسوں ہونے جا رہا ہو، اس پر تمام سیاسی جماعتوں کو بیٹھ کر بات کرنا ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے، حکومت اور پارلیمان کو متعلقہ فریقین کی رائے سننی چاہیے۔ صوبوں کی بحث زبان، نسل یا برادری کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ مقصد بہتر حکمرانی اور عوام کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ جنوبی یا شمالی پنجاب بننے کے باوجود وہ پنجابی ہی رہیں گے اور سندھی بھی سندھی رہے گا۔ ان کے بقول اصل ضرورت اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور بہتر طرز حکمرانی کو عوام کے قریب لانے کی ہے۔
شائع ہوا: 5 ستمبر، 2026 کو 01:23 PM
آخری تدوین: 5 ستمبر، 2026



