وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کر دی، نیٹو اتحادیوں کا حمایت سے انکار

W
Web Desk
13 اپریل، 2026
امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کر دی، نیٹو اتحادیوں کا حمایت سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے جبکہ نیٹو اتحادیوں نے اس اقدام میں امریکا کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

(واشنگٹن)رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی اعلان کے بعد ایران کی بندرگاہوں کے قریب امریکی بحری ناکہ بندی نافذ کر دی گئی ہے جس کے باعث خطے میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بحریہ کی کوئی تیز رفتار کشتی ناکہ بندی کے قریب آئی تو اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اقدام کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ایران دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا۔

بحری سلامتی کے ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو غیر معمولی فوجی سرگرمیوں اور تلاشی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے عالمی شپنگ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پارلیمنٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی، انشورنس اور شپنگ کمپنیوں نے آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ قرار دینا شروع کر دیا ہے جس کے اثرات عالمی منڈیوں میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب نیٹو اتحادیوں نے امریکی منصوبے سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ جنگ کے خاتمے کے بعد بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں گے۔

صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر درجنوں ممالک نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی سربراہی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں کشیدگی کم کرنے، عالمی تجارت کی بحالی اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے پر غور کیا جائے گا۔

ادھر مذہبی سطح پر بھی کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے، ویٹیکن کے سربراہ پاپ لیو نے عالمی امن پر زور دیتے ہوئے امریکی اقدامات پر تنقید کی، جس پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا۔ پاپ لیو نے بھی واضح کیا کہ وہ امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکا کو عالمی سطح پر سفارتی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 13 اپریل، 2026 کو 06:15 PM

آخری تدوین: 13 اپریل، 2026

متعلقہ مضامین