امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئے حملوں کا آغاز، سینٹکام کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئے حملوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کارروائی قبرص کے پرچم بردار تجارتی جہاز پر مبینہ حملے کے بعد کی گئی، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے
(واشنگٹن/تہران) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی قبرص کے پرچم بردار ایک کنٹینر بردار تجارتی جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کے بعد کی گئی۔
سینٹکام کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مبینہ حملے کے نتیجے میں جہاز کے عملے کا ایک رکن لاپتہ ہو گیا، جبکہ جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث جہاز اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کو اس سے قبل بھی تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد اپنا طرزِ عمل بہتر بنانے اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا، تاہم ایران اس پر عمل درآمد میں ناکام رہا۔ بیان کے مطابق موجودہ فوجی کارروائی امریکی صدر کی ہدایات کے تحت کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) ایجنسی نے بتایا ہے کہ عمان کے ساحل سے تقریباً 9 ناٹیکل میل مشرق میں ایک بحری واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کو تاحکمِ ثانی بند رکھنے کے اپنے اعلان کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بحری جہاز نے غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے کی کوشش کی، جس پر انتباہی فائرنگ کی گئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آئندہ اطلاع تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی حکام نے مزید خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی فریق اس صورتحال کو جواز بنا کر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا اشتعال انگیزی کی کوشش کرتا ہے تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی اور ایرانی بیانات ایک دوسرے سے متضاد مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ اس وقت دونوں جانب سے کیے گئے متعدد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 12 جولائی، 2026 کو 07:10 AM
آخری تدوین: 12 جولائی، 2026



