نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے نظرثانی اپیل مسترد کر دی


سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران ذہنی صحت، طبی ریکارڈ اور قانونی نکات پر تفصیلی بحث ہوئی، تاہم عدالت نے دفاع کے دلائل قبول نہ کرتے ہوئے اپیل خارج کر دی
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالتِ عظمیٰ میں نظرثانی درخواست پر تقریباً چار گھنٹے تک سماعت ہوئی جس کے دوران مجرم کی جانب سے سینئر وکیل خواجہ حارث نے دلائل پیش کیے جبکہ نور مقدم کے والدین کی نمائندگی ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کی۔
سماعت کے دوران خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے اور ٹرائل کے وقت ظاہر جعفر کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیہ اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے اور جیل میں بھی اسے باقاعدگی سے ادویات فراہم کی جاتی تھیں۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ عدالت کو یہ بتایا جائے کہ مجرم کا علاج کب شروع ہوا اور آیا وقوعے کے وقت وہ زیرِ علاج تھا یا نہیں۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے بھی سوال اٹھایا کہ مجرم کی بیماری اور علاج کے شواہد، بشمول اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے دور کی طبی تاریخ، عدالت کے سامنے پیش کی جانی چاہیے۔
دوران سماعت خواجہ حارث نے لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا ایک خط بھی عدالت میں پیش کیا۔ تاہم جسٹس صلاح الدین پہنور نے خط پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ دستاویز پر 2022 کی تاریخ درج ہے اور یہ واضح نہیں کہ یہ دستاویزات کس تناظر میں حاصل کی گئیں۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کا بھی جائزہ لیا کہ مجرم کو اپنی مرضی کا وکیل میسر نہیں تھا، تاہم بینچ نے اس حوالے سے بھی مختلف سوالات اٹھائے اور دفاعی دلائل پر تفصیلی بحث کی۔
خواجہ حارث نے عدالت سے مؤقف اپنایا کہ اگرچہ وہ دوبارہ ٹرائل کی استدعا نہیں کر رہے، تاہم سزا کے تعین کے وقت تمام متعلقہ حقائق کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تھا اور عدالت سزا میں رعایت پر غور کر سکتی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر مقدمے کے ابتدائی مرحلے میں ہی مناسب قانونی معاونت حاصل کی جاتی تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔ انہوں نے وکیل صفائی سے کہا کہ عدالت کافی وقت سے ان کے دلائل سن رہی ہے اور معاملے کو غیر ضروری طور پر طول نہیں دینا چاہیے۔
بعد ازاں عدالت نے نظرثانی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کر دی اور سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے ایک رہائشی علاقے میں قتل کیا گیا تھا۔ مقامی عدالت نے فروری 2022 میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے مئی 2025 میں بھی اس کی سزا برقرار رکھی تھی۔

شائع ہوا: 4 جون، 2026 کو 03:02 PM
آخری تدوین: 6 جون، 2026



