وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
پاکستان

نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے نظرثانی اپیل مسترد کر دی

W
Web Desk
4 جون، 2026
نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے نظرثانی اپیل مسترد کر دی
international seerat conference

سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران ذہنی صحت، طبی ریکارڈ اور قانونی نکات پر تفصیلی بحث ہوئی، تاہم عدالت نے دفاع کے دلائل قبول نہ کرتے ہوئے اپیل خارج کر دی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالتِ عظمیٰ میں نظرثانی درخواست پر تقریباً چار گھنٹے تک سماعت ہوئی جس کے دوران مجرم کی جانب سے سینئر وکیل خواجہ حارث نے دلائل پیش کیے جبکہ نور مقدم کے والدین کی نمائندگی ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کی۔

سماعت کے دوران خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے اور ٹرائل کے وقت ظاہر جعفر کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیہ اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے اور جیل میں بھی اسے باقاعدگی سے ادویات فراہم کی جاتی تھیں۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ عدالت کو یہ بتایا جائے کہ مجرم کا علاج کب شروع ہوا اور آیا وقوعے کے وقت وہ زیرِ علاج تھا یا نہیں۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے بھی سوال اٹھایا کہ مجرم کی بیماری اور علاج کے شواہد، بشمول اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے دور کی طبی تاریخ، عدالت کے سامنے پیش کی جانی چاہیے۔

دوران سماعت خواجہ حارث نے لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا ایک خط بھی عدالت میں پیش کیا۔ تاہم جسٹس صلاح الدین پہنور نے خط پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ دستاویز پر 2022 کی تاریخ درج ہے اور یہ واضح نہیں کہ یہ دستاویزات کس تناظر میں حاصل کی گئیں۔

عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کا بھی جائزہ لیا کہ مجرم کو اپنی مرضی کا وکیل میسر نہیں تھا، تاہم بینچ نے اس حوالے سے بھی مختلف سوالات اٹھائے اور دفاعی دلائل پر تفصیلی بحث کی۔

خواجہ حارث نے عدالت سے مؤقف اپنایا کہ اگرچہ وہ دوبارہ ٹرائل کی استدعا نہیں کر رہے، تاہم سزا کے تعین کے وقت تمام متعلقہ حقائق کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تھا اور عدالت سزا میں رعایت پر غور کر سکتی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر مقدمے کے ابتدائی مرحلے میں ہی مناسب قانونی معاونت حاصل کی جاتی تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔ انہوں نے وکیل صفائی سے کہا کہ عدالت کافی وقت سے ان کے دلائل سن رہی ہے اور معاملے کو غیر ضروری طور پر طول نہیں دینا چاہیے۔

بعد ازاں عدالت نے نظرثانی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کر دی اور سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے ایک رہائشی علاقے میں قتل کیا گیا تھا۔ مقامی عدالت نے فروری 2022 میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے مئی 2025 میں بھی اس کی سزا برقرار رکھی تھی۔

international seerat conference
شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 4 جون، 2026 کو 03:02 PM

آخری تدوین: 6 جون، 2026

متعلقہ مضامین

 فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو
تازہ ترین

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات اورخطے کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا

Web Desk16 ستمبر، 2026
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی
پاکستان

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی

عمران خان کی الشفا ہسپتال منتقلی کے کیس میں سپریم کورٹ نے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اٹارنی جنرل منصور اعوان سے معاونت طلب کرلی۔ جسٹس شاہد وحید نے سوال اٹھایا کہ وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرکے انہیں سماعت کے لیے کیسے مقرر کر سکتی ہے۔ عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کی عدم حاضری اور 18 اگست کے طبی سہولیات سے متعلق حکم پر بھی سوالات کیے۔ اٹارنی جنرل کی درخواست پر کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی

Web Desk16 ستمبر، 2026
مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: وزیراعظم
پاکستان

مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے مکمل حمایت کا اعلان کیا

Web Desk16 ستمبر، 2026